صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 282
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۲ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء باب ۱۱ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنَبِّئُهُمْ عَنْ ضَيْفِ ابْرُهِيمَهُ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ (الحجر: ٥٢-٥٣) اللہ عز وجل کا یہ فرمانا: ابراہیم کے مہمان کا واقعہ انہیں بتاؤ، جب وہ اس کے پاس آئے لَا تَوْجَلْ (الحجر: ٥٤) لَا تَخَفْ وَإِذْ لَا تَوْجَلُ کے معانی ہیں تو خوف نہ کر۔ اور جب قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ ابراہیم نے کہا: اے میرے رب مجھے دکھلا کہ تو تُحْيِ الْمَوْتَى (البقرة: ٢٦١) مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔۔۔۔۔ ۳۳۷۲: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ۳۳۷۲: احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ( عبد الله ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ مجھے یونس نے خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رض روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شک کے ابراہیم سے ہم زیادہ حق دار ہیں کہ یہ کہتے : قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِ مِنْ إِبْرَاهِيمَ اے میرے رب ! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح إِذْ قَالَ اِبْرَاهِيمُ رَبِّ اَرِنِى زندہ کرتا ہے؟ اللہ نے فرمایا: اے ابراہیم! کیا تجھے كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ یقین نہیں؟ کہا: کیوں نہیں مجھے اس پر پورا یقین تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ ہے۔ مگر میری درخواست اس لئے ہے کہ تا میرا دل قَلْبِي (البقرة : ٢٦١) وَيَرْحَمُ اللهُ لُوْطًا پورے طور پر تسلی پا جائے۔ اور اللہ لوط پر رحم کرے لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ کہ وه کسی مضبوط سہارے کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُوْلَ مَا لَبِثَ اور اگر میں قید خانہ میں اتنا عرصہ رہتا جتنا کہ یوسف رہے تو جو بلانے والا شخص آیا تھا، میں اس کی يُوْسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ۔ بات مان لیتا۔ اطرافه ۳۳۷۵، ۳۳۸۷، ٤٥٣٧، ٤٦٩٤، ٦٩٩٢۔