صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 281
صحيح البخاری جلد 4 MAI ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء ، ہے۔تاکہ دین اسلام سے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیاں ظہور میں آئیں اور تمام اقوام عالم جو اب تک برکاتِ اسلام و انوار توحید سے محروم ہیں برکت پائیں اور وحدت کی لڑی میں پروئی جائیں۔جماعت احمدیہ پر یہ فرض دوہرا عائد ہوتا ہے کہ وہ دل و جان سے اپنے امام کی اتباع میں درود شریف کی دعا میں مشغول ہو جائے تا جلد وہ پیشگوئی پوری ہو جس کا اعلان کھلے الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں : خدا قادر فرماتا ہے کہ اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔اور بعد اس کے تو بہ کا دروازہ بند ہوگا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جا ئیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔قریب ہے کہ سب مالتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام۔اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ گند ہوگا، جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی کچی تو حید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں، ملکوں میں پھیلے گی۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے۔بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نور اُتارنے سے۔تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی۔(تذکرہ، جنوری ۱۸۹۷ ء - صفحه ۲۴۴) غرض احیاء ملت اسلامیہ و غلبہ دین اسلام دونوں ہمارے وقت کی اشد ضرورتیں ہیں اور وہ متقاضی ہیں کہ درود شریف کی دعا جیسا کہ حق ہے پورے خشوع و خضوع سے کی جائے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ كَمَا بَارَكْتَ وَسَلَّمْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِهِ۔ایک اور دعاء درود ہے جو بطور ورد و ذکر الہی کام کاج کے دوران چلتے پھرتے آسانی سے کی جاسکتی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: سُبحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، اللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ( ترياق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ حاشیه صفحه ۲۰۸) ( تذکرہ صفحہ ۲۵) یہ دعا بھی کلمات وحی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۸۸۰ء میں الہام ہوئے اس ورد میں تسبیح وتحمید بھی ہے اور درود بھی۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الاذان ، أبواب صفة الصلاة تشریح باب ۱۴۸ تا ۱۵۰۔