صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 280 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 280

صحيح البخاری جلد ؟ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء حالت میں ہے اور ان میں سے ہر قوم ہی مسلمان قوم کی دشمن اور اس کے در پے محو ہے۔ایسے خطرناک حالات میں اگر ول بریاں اور چشم گریاں نہ ہو اور درود شریف زبان سے محض رسماً پڑھ دیا جائے تو وائے اس دعوی محبت پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کا کیا جاتا ہے۔اگر عربی الفاظ کے معنی ذہن و قلب میں نہیں اتر تے تو نہ سہی۔جذبہ محبت و عشق کسی زبان کا مقید نہیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علاوہ عربی الفاظ مسنونہ کے اپنی تصنیفات میں مختلف پیرایہ واسلوب میں بزبان اردو بھی دعائیں کی ہیں۔ایک جگہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان الفاظ میں دعا کرتے ہیں:۔”اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔“ اور اس دعا سے پہلے آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ممتاز کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے جو محرک ہے اس محسن عظیم کے لئے اس والہانہ دعا کا۔فرماتے ہیں:- وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا۔جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اُس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفياء ختم المرسلين فخر النبیین جناب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔“ ( اتمام الحجة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۰۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک وصفی نام الحاشر بھی بیان فرمایا ہے۔یعنی قوموں کو زندہ کرنے والا۔تو مذکورہ بالا الفاظ میں اسی طرف اشارہ ہے اور اسی تعلق میں آپ کے اس احسان عظیم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ آتے تو سابقہ ابنیاء میں سے کوئی نبی راستباز نہ سمجھا جاتا۔فرماتے ہیں :- یہ اسی نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلَّمُ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ اتمام الحجة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۰۸) الْعَالَمِينَ۔مذکورہ بالا ایک نمونہ دعائے درود کا ہے جس کی طرف قارئین شرح صحیح بخاری شریف کو توجہ دلائی جاتی ہے۔مذکورہ بالا الفاظ سے پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت وجود اور آپ کے انفاس قدسیہ کی تاثیر قدسی سے دنیا میں ایک اور حشر اور بعث ثانی مقدر ہے جس کے ظہور کا ہمارا یہ زمانہ ہے۔اس لیے بھی درود شریف کی شدید ضرورت