صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 279 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 279

صحيح البخارى- جلد 4 ۲۷۹ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء نے اپنے جواب میں تسلیما کے ساتھ صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِهِ کا اضافہ فرما کران برکتوں کی دعا کو ایک ہی مسلک میں پرو دیا ہے۔دونوں روایتیں جامع و مانع ہیں۔بعض یزید طبع لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے بغض وعناد ہے اور وہ اہل بیت کو آپ کی اور امت محمدیہ کی دعاؤں سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں کے فتنہ کا علاج بھی قبل از وقت فرما دیا گیا ہے۔وہ آل محمد میں شامل ہیں۔جیسا کہ حدیث نبوی کے الفاظ میں تصریح ہے۔کمال خشوع و خضوع سے جیسا کہ دعا کرنے کا حق ہے ہمیں درود شریف کا التزام ان کلمات میں بھی رکھنا چاہیے جو حدیث نبوی میں وارد ہوئے ہیں اور ان کے علاوہ ان کے ہم معنی الفاظ میں بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بذریعہ وحی ارشاد ہوا ہے: " صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ سَيدِ وُلْدِ آدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ - درود بھیج محمد پر اور آل محمد پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاء ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم “ اور آپ اس وجی سے تعلق میں فرماتے ہیں:۔میہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب مراتب اور تفضلات اور عنایات اُسی کے طفیل سے ہیں اور اسی سے محبت کرنے کا یہ صلہ ہے۔سبحان اللہ! اس سرور کائنات کے حضرت احدیت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں اور کس قسم کا قرب ہے کہ اس کا محب خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور اس کا خادم ایک دنیا کا مخدوم بنایا جاتا ہے۔بیچ محبوبے نماند ہیچو یار دلبرم میر ومه را نیست قدرے درد یار دلبرم آں کجا روئے کہ دارد هیچور ولیش آب و تاب واں کجا باغھے کہ مے دارد بہار دلبرم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مدح و امتیاز اور خصوصیت کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پرنور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے 66 کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں صلی اللہ علیہ وسلم۔“ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اول حاشیه در حاشیه صفحه ۵۹۸،۵۹۷) درود شریف ایک دعا ہے اور اس کی مذکورہ بالا تا ثیر قدسی کے لئے بڑی شرط یہ ہے کہ وہ سوز و محبت اور الہیت و شیفتگی میں کی جائے اور آج ہمارے زمانہ میں سوز و در دول پیدا ہونے کا اور کونسا نازک وقت ہوگا کہ جس میں امت محمدیہ ہر ملک میں طرح طرح کی فلاکت حال اور مصیبت واد بار سے دو چار ہے۔اقوام عالم میں سے ہر قوم اپنے علم و آداب میں بہتر