صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 278 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 278

صحيح البخاری جلد 4 ۲۷۸ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ساری دنیا کی قوموں میں توحید باری تعالیٰ کی قبولیت اور اس کے ذریعے سے اسے برکت حاصل کرنے کا یہ وعدہ اسلام کے ذریعہ سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا کو پنجگانہ نماز کا ضروری حصہ قرار دیا ہے جو درود شریف کے نام سے مشہور ہے۔اس کے یہاں اعادہ کی ضرورت نہیں۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا و بشارت و خواب اور اس کی تعبیر جو روحانی معنوں میں ظاہر ہوئی دونوں بیٹوں اور ان کی ذریت سے متعلق ہے۔یہ میری رائے ہے جس میں میں منفرد نہیں۔علامہ محمد لقمان جارم قاضی محاکم شرعیہ مصریہ اپنی مشہور تالیف ادیان العرب فی الجاھلیۃ میں لکھتے ہیں: وَلَقَدِ اخْتُلِفَ فِي أَي وَلَدَيْهِ النَّبِيْحُ أَهُوَ إِسْمَاعِيلُ أَمُ إِسْحَاقَ وَقَدْ قَالَ بِكُلّ مِنَ الْقَوْلَيْنِ جَمَاعَةٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ ( صفر ۱۳) یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کی نسبت اختلاف ہوا ہے کہ ان میں سے کونسا بیٹا ذبیح اللہ ہے۔مسلمانوں کی ایک جماعت کے اس بارے میں دونوں قول ہیں۔یعنی حضرت اسماعیل بھی ذبیح ہیں اور حضرت اسحاق بھی۔یہ دونوں قول اس صورت میں صادق ہو سکتے ہیں جب انہیں روحانی معنوں میں قربانی کا مصداق مانا جائے۔کیونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ذبح ہونے سے بچائے گئے تھے اور حضرت اسحاق جب خواب دیکھی گئی، ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے اور نہ حضرت اسماعیل کی موجودگی میں وہ اکلوتے بیٹے کہلا سکتے تھے کہ انہیں ذبح کے لئے لٹایا جاتا اور اگر فرض کریں کہ وہ پیدا ہو چکے تھے تو ایک معصوم بچہ نہ عقل و ہوش رکھتا ہے، نہ ارادے کا مالک ہے کہ ذبح کئے جانے نہ کئے جانے کے بارے میں کوئی رائے رکھتا ہو۔علاوہ ازیں حضرت ہاجرہ کو یونہی لونڈی قرار دینے سے حضرت اسماعیل علیہ السلام صلبی بیٹے کے شرف سے محروم نہیں ہو سکتے۔یہ امر خود تورات کی متعدد تصریحات کے خلاف ہے۔مذکورہ بالا تو ضیحات کے بعد مجھے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ یہ محض تکرار ہوگا۔باب کی آخری دور و اسیتیں بھی عین بر محل مذکور ہیں۔ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل (امت) پر برکات کی دعا کرنے کے طریق سے متعلق سوال اور اس کے جواب کا ذکر ہے۔ایک روایت میں سوال كَيْفَ نُصَلـى عَلَيْكَ ہے اور اس کے جواب میں اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَازْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ہے اور دوسری روایت میں سوال کے الفاظ كَيْفَ الصَّلاةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ہیں اور جواب اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ہے اور دونوں میں كَمَا صَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ہے۔لفظ آل میں افراد خاندان بھی شامل ہیں اور ساری امت بھی۔قرآن مجید میں لفظ آل وسیع معنوں میں وارد ہوا ہے۔اور جس درود شریف کا حکم سورۃ الاحزاب کی آیت ۵۷ میں بایں الفاظ وارد ہوا ہے: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا 0 ( یقینا اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔} وہ اپنے مفہوم میں وسیع ہے۔کیونکہ اس حکم سے پہلے اللہ اور ملائکہ کی صلوٰۃ بمعنی رحمت خاص و برکت) کا ذکر کر کے ہمیں آپ کے لئے رحمت و برکت اور سلامتی کی دعائیں کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ یہ وہی رحمت و برکت کی بشارت ہے جس کا وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام دیئے گئے ، اس لئے آنحضرت نے ط