صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 277 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 277

البخاري - جلد ٦ ۲۷۷ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء سلسلہ مضمون چلاتے ہوئے فرماتا ہے: فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَيْنِ هِ وَنَادَيْنَهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ ، قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ٥ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ، وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيم (الصافات: ۱۰۴ تا ۱۰۸) پھر جب وہ دونوں فرمانبرداری پر آمادہ ہو گئے اور اس (یعنی باپ ) نے اس (یعنی رضا مندی ظاہر کرنے والے بیٹے ) کو ماتھے کے بل گرا لیا اور ہم نے اس (یعنی ابراہیم ) کو پکار کر کہا: اے ابراہیم ! تو اپنی رویا پوری کر چکا۔ہم اسی طرح محسنوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔یہ یقیناً ایک کھلی کھلی آزمائش تھی اور ہم نے اس (یعنی اسماعیل) کا فدیہ ایک بڑی قربانی کے ذریعہ سے دے دیا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا جو فدیہ قائم کر کے جس ذبح عظیم کا سلسلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں چلایا گیا، اس کا ذکر قدرے تفصیل سے بعد کی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔میں زیر شرح باب اور اس کی روایات سے دور چلا جاؤں گا، اگر ان کی تفسیر میں داخل ہو گیا۔لیکن ایک بات جو ذبح اسماعیل سے تعلق میں ضروری ہے، وہ مشرکوں کی رسومات اور مشرکانہ تصور قربانی کا ابطال ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذریت طیبہ کے ذریعہ سے انجام پایا اور پائیہ تکمیل کو پہنچنے والا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو تو حید باری تعالیٰ کی خاطر پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اور پھر حضرت اسحاق علیہ السلام کو وقف کیا۔ایک کو بیابانِ فاران میں جہاں وادی مکہ ہے اور بیت اللہ ہے اور دوسرے کو جبل موریاہ پر اس عظیم الشان مقصد کے لئے مخصوص کر دیا۔روحانی معنوں سے دونوں ذبیح اللہ ہو سکتے ہیں۔خواب کی تعبیر کے سب سے پہلے مصداق ظاہری اور روحانی دونوں لحاظ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اور جب حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے تو وہ بھی قیام تو حید باری تعالیٰ کی غرض سے بیت ایل کے مقام پر وقف کئے گئے۔بیت ایل کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔جہاں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جہاں کہیں بھی گئے ہیں، انہوں نے پتھروں کا ڈھیر جمع کر کے اس پر تیل ڈالا اور اسے بیت ایل کے نام سے پکارا ہے۔( پیدائش باب ۱۲ آیات ۸،۷) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عمل سے توحید کے لئے اس گہری خواہش کا علم ہوتا ہے جو آپ کے دل میں تھی اور اسی خواہش کی تکمیل کے لئے آپ نے اولاد کی خواہش کی اور جب وہ پوری ہوئی تو اس مقدس غرض کے لئے دونوں بیٹوں کو وقف کر دیا اور آپ سے ان الفاظ میں وعدہ ہوا: میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا اور برکت دوں گا اور تیرا نام سرفراز کروں گا۔سو تو باعث برکت ہو۔جو تجھے مبارک کہیں، ان کو میں برکت دوں گا اور جو تجھ پر لعنت کرے، اس پر میں لعنت کروں گا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائیں گے۔“ (پیدائش باب ۱۲ آیات ۲-۳)