صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 276 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 276

صحيح البخاري - جلد 4 ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء اس لئے وہ قربان گاہیں اس کی گناہ گاری کا باعث ہوئیں۔اگر چہ میں نے اپنی شریعت کے احکام کو اُن کے لئے ہزار ہا بار لکھا پر وہ ان کو اجنبی خیال کرتے ہیں۔وہ میرے ہدیوں کی قربانیوں کے لئے گوشت گذرانتے اور کھاتے ہیں۔لیکن خداوند اُن کو قبول نہیں کرتا۔“ ( باب ۸ آیات ۱۲۵ تا ۱۴) قربانی سے متعلق یہ وہ روحانی تصور ہے جس کی بابت انبیاء علیہم السلام نے وقتاً فوقتاً وعظ فرمایا اور جس کا سبق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے ایسے نمایاں طور پر دیا گیا ہے جو دلوں کو لرزا دینے والا ہے اور جس سے بچوں کی قربانی والا مشرکانہ تصور یکسر منسوخ کر دیا گیا اور اس کی جگہ قربانی کا روحانی تصویر دلنشین کیا گیا۔قرآن مجید نے تاریخ بشریت کے اس مہتم بالشان واقعہ کو ایجاز سے اور غایت درجہ بلیغ الفاظ میں محفوظ کیا ہے۔پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا بابت صالح اولاد عطا کئے جانے اور اس دعا کی قبولیت و بشارت کا ذکر کرتا ہے: رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِينَ فَبَشَّرُنَهُ بِغُلَمٍ حَلِيمٍ O (الصافات: (۱۰۲۱۰۱) اور اس کے معا بعد فرماتا ہے : فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّى أَرَى فِى الْمَنَامِ انِى اَذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَاذَا تَرَى * قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّبِرِينَ) (الصافات: (۱۰۳) پس جب وہ یعنی اسماعیان ان کے ساتھ کام کاج کی عمر کو پہنچ گیا تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں۔اس لئے غور کر کے بتاؤ کہ تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے۔بیٹے نے کہا: میرے باپ جو آپ کو حکم ہے وہ کریں۔آپ انشاء اللہ مجھے اپنے ایمان و فرمانبرداری میں ثابت قدم پائیں گے۔ان مختصر الفاظ میں چار باتیں بیان کی گئی ہیں: ا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ وہ بیٹا ہے جو بالغ عمر والا ہے اور اپنے ارادہ کا مالک ہے۔۲۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی خواب کے صادق ہونے کا یقین ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ باپ ہیں، اپنا حق نہیں سمجھتے کہ بیٹے کی رضامندی و اجازت حاصل کرنے کے بغیر اس کی گردن پر چھری چلائیں۔الفاظ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواب کی تعبیر سے متعلق متفکر ہیں اور اس کی تعبیر چاہتے ہیں۔آخر باپ بیٹے دونوں کی رائے یہی قرار پائی کہ خواب بغیر تاویل ظاہری شکل ہی میں پوری کی جائے تا فریب دہ نفس کو الہی حکم ٹالنے میں کوئی موقع نہ ملے۔خدا تعالیٰ کی محبت واطاعت میں کیا ہی کھوئی ہوئی دونوں روحیں ہیں جنہوں نے غور و خوض کرنے کے بعد فیصلہ کیا اور اپنے دلوں کو مضبوط کر کے نہایت تلخ گھونٹ پینے کے لئے تیار ہو گئے۔۴۔انہی آیات سے معلوم ہوتا ہے : وَبَشَّرُنَهُ بِإِسْحَقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّلِحِيْنَ ) (الصافات: ۱۱۳) کہ حضرت اسحاق علیہ السلام ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی وہ اکلوتا بیٹا تھے جس کے ذریعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کڑی آزمائش ہوئی۔