صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 275 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 275

صحيح البخاری جلد 4 ۲۷۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء یہود و نصاری کی زبردستی ہے اور حضرت اسماعیل کے اکلوتا بیٹے اور ابدی عہد اور برکات کا مصداق ہونے سے محروم رکھنا اور اس سے انکار خود تو رات کے بیانات کی تکذیب ہے۔ہمارے نزدیک دونوں بیٹے موعودہ برکات کے اپنی اپنی جگہ مبارک ثابت ہوئے اور ان سے توحید باری تعالیٰ قائم کرنے والی ذریت مبارکہ پیدا ہوئی اور دنیا کی قوموں نے برکت حاصل کی۔جب یہ امر واقعہ تاریخ سے ثابت ہے کہ دونوں گھرانے برکت دیئے گئے تو اس کا انکار قومی تعصب ہے۔پیشتر اس کے کہ قرآن مجید کا بیان جو صاف اور بلیغ و موجز الفاظ میں ہے نقل کیا جائے ، تاریخ قدیم سے ایک بات کا ذکر کرنا قارئین کے علمی اضافے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے۔قدیم اقوام مشرکہ میں بیٹوں کی قربانی کا رواج عام تھا جو وہ اپنے دیوتاؤں کی خوشنودی کے لئے کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے بعثت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے جہاں خالص توحید باری تعالیٰ کا تصور قائم کیا، وہاں اس رسم کو بھی موجودہ قربانی کے ذریعے سے منسوخ کر کے بنی نوع انسان پر رحم فرمایا ہے۔کتب تاریخ قدیم میں اس بد رسم کا ذکر پایا جاتا ہے۔تو رات میں بھی اس کا ذکر متعدد جگہوں میں ہے۔صرف ایک حوالہ کافی ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل پر افسوس کا اظہار کرتے اور فرماتے ہیں: ”بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان کے سے کام سیکھ گئے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو ان کے لئے پھندا بن گئے۔بلکہ انہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو شیاطین کے لئے قربان کیا اور معصوموں کا یعنی بیٹے بیٹیوں کا خون بہایا جن کو انہوں نے کنعان کے بتوں ( لعل وغیرہ) کے لئے قربان کر دیا اور ملک خون سے ناپاک ہو گیا۔( زبور باب ۱۰۶ آیات ۳۵ تا ۳۸) شیاطین سے مراد دیوتا ہیں جن کے لئے بچوں کی سوختنی قربانی کی جاتی تھی۔حضرت مسیح کی فرضی قربانی کے قصہ میں بھی وہی مشرکانہ تصور پنہاں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے اعلیٰ واصفی تصور سے بدل ڈالا گیا۔اس تبدیل شدہ مقدس تصور کا ذکر صحف تورات میں کئی جگہوں میں وارد ہوا ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے ہیں: تھر تھراؤ اور گناہ نہ کرو۔اپنے اپنے بستر پر دل میں سوچو اور خاموش رہو۔(سلاہ) صداقت کی قربانیاں گزرا نو اور خدا وند پر توکل کرو۔(زبور باب ۴ آیت ۵،۴) حضرت سموئیل علیہ السلام فرماتے ہیں: ” کیا خداوند سوختنی قربانیوں اور ذبیجوں سے اتنا ہی خوش ہوتا ہے جتنا اس بات سے کہ خداوند کا حکم مانا جائے۔دیکھ فرمانبرداری قربانی سے اور بات ماننا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے۔کیونکہ بغاوت اور جادوگری برابر ہیں اور سرکشی ایسی ہی ہے جیسی مورتوں اور بتوں کی پرستش (۱- سموئیل باب ۱۵ آیات ۲۳،۲۲) انبیاء علیہم السلام نے جانی قربانی کی جگہ روحانی قربانی پر زور دیا ہے جو اطاعت و محبت الہی میں کھوئے جانے کا نام ہے۔معصیت اور ارتکاب گناہ کے ساتھ جسمانی قربانی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔شریروں کے ذبیحہ سے خداوند کو نفرت ہے۔پر وہ صداقت کے پیرو سے محبت رکھتا ہے۔(امثال باب ۱۵ آیات (۹۸) ہوسیع نبی کی کتاب کا باب ۸ اس تعلق میں مطالعہ کرنے کے قابل ہے۔وہ فرماتے ہیں: ”اے سامریہ تیرا بچھڑا مردود ہے۔میرا قہر اُن پر بھڑکا ہے۔وہ کب تک گناہ سے پاک نہ ہوں گے۔۔۔۔افرائیم نے گناہ گاری کے لئے بہت سی قربان گاہیں بنائیں۔