صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 274 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 274

۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء صحيح البخاری جلد 4 سے کہا کہ ساری جو تیری بیوی ہے، سو اس کو ساری نہ پکارنا۔اس کا نام سارہ ہوگا اور میں اس کو برکت دوں گا اور اس سے بھی تجھے ایک بیٹا دوں گا۔یقینا میں اسے برکت دوں گا کہ تو میں اس کی نسل سے ہوں گی اور عالم کے بادشاہ اس سے پیدا ہوں گے۔تب ابراہیم سرنگوں ہوا اور ہنس کر دل میں کہنے لگا کہ کیا سو برس کے بڑھنے سے کوئی بچہ ہوگا اور کیا سارہ کے جو نوے برس کی ہے اولاد ہوگی اور حضرت ابراہیم نے خدا سے کہا: کاش اسماعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے گا۔تب خدا نے فرمایا کہ بے شک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہو گا۔تو اس کا نام اضحاق رکھنا اور میں اس سے اور پھر اس کی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی عہد ہے باندھوں گا اور اسماعیل کے حق میں بھی میں نے تیری دعاسنی۔دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا۔لیکن میں اپنا عید اضحاق سے باندھوں گا جو اگلے سال اسی وقت معین پر سارہ سے پیدا ہوگا۔“ غرض ان الفاظ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام سے متعلق دعا قبول ہونے اور برکت دی جانے کی واضح پیشگوئی ہے اور یہ جو ذکر ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارہ میں ابدی عہد باندھوں گا۔اس ایک فقرے سے یہودیوں یا عیسائیوں کا یہ استدلال کرنا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے عہد نہیں باندھا جائے گا کمزور ہے۔کیونکہ ایک بات کے ذکر سے دوسرے کی نفی لازم نہیں آتی۔خصوصاً جبکہ بصراحت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسبت بھی بشارت ہے کہ ان کو بڑی برکت دی جائے گی اور وہ ابدی عہد کے نشان (ختنہ) سے پہلے داغے گئے تھے۔جبکہ ان کی عمر تیرہ برس کی تھی۔( باب ۱۷) اور ختنے سے متعلق لکھا ہے کہ یہ اس عہد کا نشان ہوگا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔تمہارے درمیان پشت در پشت ہر لڑکے کا ختنہ جب وہ آٹھ روز کا ہو کیا جائے ، خواہ وہ گھر میں پیدا ہو، خواہ اسے کسی پردیس سے خریدا ہو جو تیری نسل سے ہیں۔لازم ہے کہ تیرے خانہ زاد اور تیرے زرخرید کا ختنہ کیا جائے اور میرا عہد تمہارے جسم میں ابدی ہوگا اور وہ فرزند نرینہ جس کا ختنہ نہ ہوا ہو، اپنے لوگوں سے کاٹ ڈالا جائے۔کیونکہ اس نے میرا عہد توڑا۔(پیدائش باب ۱۷ آیات ۱۱ تا ۱۴) سوختنہ کی صورت میں خداوند کا یہ ابدی عہد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ قائم کیا گیا اور وہ اکلوتے بیٹے تھے اور بالغ تھے۔محض حضرت ہاجرہ کو لونڈی کہہ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اکلوتے پن، ابدی عہد اور وعدہ برکات سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ حضرت ہاجرہ ان کے ہاں بطور لونڈی تھیں، وہ ایک شہزادی تھیں۔ان تمام باتوں کے باوجود حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح اللہ ہونے کا انکار ابرا نیمی آزمائش کی قدور عظمت کو کم کرنے والا ہوگا۔کیونکہ اکلوتے بیٹے کو ذبح کر دینے پر آمادگی زیادہ تلخ ہے۔یہ نسبت دوسرے بیٹے کی موجودگی میں دو بیٹوں میں سے ایک بیٹے کی سوختنی قربانی نسبتاً آسان ہے۔تورات میں مذکور ہے کہ جب حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے جبل موریا پر لے گئے تو اس وقت حضرت اسماعیل موجود تھے۔وہ بالغ تھے۔پس یہ آزمائش اس قدر تلخ نہ تھی۔اگر صرف ایک ہی بیٹے کی سوختنی قربانی کا سوال ہوتا۔اس جہت سے اگر تورات کے بیان پر نظر ڈالی جائے تو حضرت اسماعیل کو اکلوتا بیٹا ہونے اور ابدی عہد میں شامل ہونے اور ذبیح اللہ ہونے سے محروم کرنا محض