صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 273 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 273

صحيح البخاری جلد ؟ ۲۷۳ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء مَاذَا تَری غور کر کے مجھے بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ اس بارے میں بچے کی اجازت سے متعلق سوال ضروری تھا۔کیونکہ وہ اپنی زندگی کا مالک تھا اور یہ امر بھی صحیح نہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام دودھ پیتے بچے تھے۔اس حالت صغرسنی میں ان کی رضا مندی حاصل کر نا عبث تھا۔قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کا واقعہ ان کے زمانہ بلوغت سے تعلق رکھتا ہے۔فرماتا ہے: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَبيَّ إِنِّى أرى۔۔۔۔الصَّابِرِينَ) (الصافات: ۱۰۳) پھر جب وہ لڑکا اس کے ساتھ تیز چلنے کے قابل ہو گیا۔اس نے کہا: اے میرے بیٹے ! میں نے تجھے خواب میں دیکھا ہے کہ (گویا) میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔پس تو فیصلہ کر کہ اس میں تیری کیا رائے ہے؟ اس وقت بیٹے نے کہا: اے میرے باپ ! جو کچھ تجھے اللہ کہتا ہے وہی کر۔تو انشاء اللہ مجھے اپنے ایمان پر قائم رہنے والا دیکھے گا۔فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعی کا مفہوم یہ ہے کہ جب حضرت اسماعیل اپنے باپ کی معیت میں ایسی عمر کو پہنچ گئے جو کام کاج اور دوڑ دھوپ کی ہوتی ہے تو اس وقت انہوں نے اپنی ذبیحہ والی رویاء کا ذکر ان سے کیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ان سے اتفاق کیا کہ یہ خواب اسی طرح پورا کیا جائے جس طرح دیکھا گیا ہے اور جیسا آپ مناسب سمجھتے ہیں ایک عاقل بالغ نو عمر بچے کا یہ جواب ان کی غایت درجہ سعید فطرت پر دلالت کرتا ہے۔غرض روایات میں جو واقعہ غیر مرفوع روایت نمبر ۳۳۶۳ ۳۳۶۵،۳۳۶۴ میں بیان کیا گیا ہے۔اس کا تعلق حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی ہجرت اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صغر سنی کے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن واقعہ ذبیجہ بہت بعد کا ہے۔یہ واقعہ کس شکل وطریق میں ظہور پذیر ہوا، اس کی تفصیل وہی ہے جو عام زد خلائق ہے اور تورات کے صحیفہ پیدائش میں مذکور ہے۔اس میں بجائے حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام ذبیح اللہ قرار دیئے گئے ہیں۔حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی ہجرت سے متعلق واقعہ تو پیدائش باب ۲۱ میں قدرے اختلاف سے اسی طرح نقل ہے جو عربوں میں مشہور ہے اور اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے۔لیکن ذبیحہ کا واقعہ باب ۲۲ میں اسلامی روایات کے خلاف نقل کیا گیا ہے۔اس میں حضرت اسحاق علیہ السلام سے متعلق ذکر ہے کہ خداوند نے اس سے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاک کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریا کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا، سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔( پیدائش باب ۲۲ آیت ۲) آگے وہی واقعہ منقول ہے جو عام طور پر ہمارے ہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام سے متعلق مشہور ہے۔یعنی ان کی قربانی کی جگہ مینڈھے کی قربانی کا حکم ہوا۔سب سے بڑا اعتراض جو تورات کے بیان پر وارد ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اکلوتے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم تھا اور اسحاق اکلوتے بیٹے نہیں تھے بلکہ حضرت اسماعیل تھے اور کوئی وجہ نہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے متعلق جو روایت بنی اسماعیل یعنی عربوں میں مشہور ہے وہ تو قبول نہ کی جائے اور اس بارے میں اسرائیلی روایت قبول کی جائے۔جبکہ خود توریت میں اکلوتے بیٹے کے ذبح کرنے کی صراحت ہے اور یہ بھی صراحت ہے کہ حضرت ہاجرہ کو بھی بشارت دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک بڑی قوم بنائے گا۔( باب ۲۱ آیت (۱۸) اور باب ۱۷ آیات ۱۵ تا ۷ے میں ہے: ” اور خدا نے ابراہیم