صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 272
صحيح البخاری جلد ٦ ۲۷۲ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء جائے تو یہ اندازہ اصدق الصادقین نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے سے بالکل مطابق ہوتا ہے جو اس روایت میں مروی ہے۔خود یہودی اور سیحی محققین و شارحین تو رات کو تسلیم ہے کہ اسرائیلی اخبار کے اندازے صرف قیاسی ہیں یقینی نہیں جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے۔أَحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَا بَتَيْهَا : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہجرت گاہ مدینہ کے لئے دعا فرمائی جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ہجرت گاہ کے لئے دعا فرمائی تھی اور دونوں مقاموں کو برکت دی گئی۔اس تعلق میں كتاب فضائل المدينة باب ۴۱۔حضرت عبداللہ بن زید کی روایت کے لیے دیکھئے کتاب البیوع روایت نمبر ۲۱۲۹۔روایت نمبر ۳۳۶۹، ۳۳۷۰ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تعلیم دی ہے کہ وہ آپ کے لئے اور اپنے لئے ویسی ہی برکات کی دعا مانگتے رہیں، جیسے حضرت ابراہیم اور ان کی آل پر ہوئیں اور یہ سلسلہ برکات امت محمدیہ کے لئے تا ابد قائم رہے گا۔اسی دعا سے جس پر امام بخاری نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق باب اختم کیا ہے، استنباط کرتے ہوئے میں نے کہا ہے کہ مستقبل ہی نقاب کشائی کرے گا کہ کس کس رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی دعائیں قبول ہوں گی اور کس کس طرح اور کب تک دونوں سلسلوں سے متعلق برکات کا ظہور ہوتا رہے گا۔کیونکہ ہم موعودہ قبولیت سے متعلق بیسویں صدی میں ہیں جو مسیح موعود کی صدی ہے اور جس میں ایک عظیم الشان نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں۔جس کی دہلیز پر ایک مینار نصب ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کی وحی جلی حروف میں نمایاں ہے: بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد یہاں تک تو اسرائیلی اور اسماعیلی روایات کی قدر مشترک سے متعلق باب کی تشریح ہے۔اب ذیل میں ان کے اختلاف کا ذکر کیا جاتا ہے۔ان میں سب سے بڑا اور اہم اختلاف ذبیح اللہ کی تعین کا سوال ہے۔آیا وہ حضرت اسماعیل تھے یا حضرت اسحاق (علیہما السلام) اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب اپنی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہ کے ساتھ بیابان کی طرف آئے تو وہ معصوم و کم سن بچے تھے یا زیادہ عمر کے۔اس بارے میں صحف تو راۃ کا بیان قرآنِ مجید کے بیان سے بظاہر مختلف ہے۔سورۃ الصافات کی آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا بابت صالح اولاد کے قبول کئے جانے کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس سے متعلق دو بشارتیں دی گئیں۔ایک غلام حلیم کی نسبت اور دوسری اسحاق کی۔ظاہر ہے کہ غلام حلیم سے مراد اسماعیل ہیں، اسحاق نہیں۔کیونکہ حضرت اسحاق کا نام بوجہ شہرت سب کو معلوم ہے۔علاوہ ازیں غُلامٌ حَلِیم کے تسمیہ میں دوسرے کا تسمیہ ضمنا شامل ہے۔اس غلام حلیم سے متعلق انہی آیات میں فرماتا ہے: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّى أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ (الصافات: (۱۰۳) جب وہ غلام حلیم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی معیت و صحبت میں بلوغت کی عمر کو پہنچ گیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔فَانظُرُ