صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 271 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 271

صحيح البخاری جلد 4 ۲۷۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ، ہے۔اور اسی باب میں حضرت ہاجرہ کے مع حضرت اسماعیل فاران کی طرف ہجرت کرنے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ ان کی ماں حضرت ہاجرہ نے ان کی شادی کا انتظام کیا اور اس کے بعد حضرت اسحاق کے ذبح کئے جانے کی آزمائش اور ان کی نسل کو بہت برکت دیئے جانے سے متعلق وعدے کا ذکر ہے۔( باب ۲۲) اس تبصرہ سے ظاہر ہے کہ وہ جگہ جہاں یہ واقعہ آزمائش رونما ہوا، اس جگہ نے بیت المقدس کے نام سے بنواسرائیل کے درمیان شہرت پائی۔اس کی بنیاد طبعا بعد کی ہے اور یہ وہ جگہ ہے جو جبل موریہ پر واقع ہے۔مذکورہ بالا عرصہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جنوب کی طرف قادس اور شور کے درمیان سفر کرنے اور جرار میں قیام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔( باب ۲۰) حضرت ابراہیم کی ارض کنعان میں آمد اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کے عرصہ کا پچیس سال انداز ہ بتایا گیا ہے۔(قطف الزهور فى تاريخ الدهور تاليف يوحنا افندى ابكاريوس، القسم الأوّل في ممالك قارة آسيا وشعوبها ودولها الفصل الرابع فى تاريخ العبرانيين الباب الثاني في خروج بنی اسرائیل من مصر تحت رئاسة موسى، صفحہ ۳۳) اور اسی مؤلف کا اندازہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کل عمر ۷۵ سال تھی (الباب الأوّل في ذكر ابراهيم وارتحال يعقوب وأولاده الى مصر، صفحه۳۱) سوال یہ ہے کہ اس اثناء میں دوسرا سفر جنوب کی طرف کیوں اختیار کیا گیا اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہا السلام کی زندگی کے حالات کی نسبت صحف عہد قدیمہ کیوں خاموش ہیں اور اگر حضرت اسحاق و حضرت یعقوب علیہما السلام کے متعلق اسرائیلی روایات قابل اعتماد ہیں تو عربوں کی روایات ان کے جد امجد حضرت اسماعیل علیہ السلام سے متعلق کیوں قابل اعتماد نہیں؟ آخر قومی روایات متداولہ کے سوا ہمارے پاس اور کونسا یقینی ذریعہ ہے جس سے ان کے حالات کا علم ہو سکے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے سفر کی بابت قیاس غالب یہی ہے کہ جنوب کی سمت ان کا سفر حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی خبر گیری اور نگہداشت ہی کے لئے تھا اور ان کی نسبت یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ انہوں نے وہاں کوئی بیت اہل نہ بنائی ہو۔کیونکہ خود توریت کی مذکورہ بالا شہادتوں سے ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جہاں بھی قیام فرمایا وہاں ایک بہیت ایل اور قربان گاہ ضرور قائم کی۔مثلاً حار ان سے سکم میں آنے پر ہسکم سے مقام کی میں آنے پر اور کنعان کے جنوب میں مقام حبرون ( بیت الخلیل ) اور پھر جبل موریا پر بوقت آزمائش ذبیحہ گزارا اور قربان گاہ بنائی اور دعا کی اور ان جگہوں کا نام بیت ایل رکھا۔پس ایسے شخص کی نسبت قیاس یہی کہتا ہے کہ جہاں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کا قیام ہوا، وہاں بھی انہوں نے ضرور بیت ایل کی بنیاد رکھی۔جیسا کہ اس بارہ میں بنی اسماعیل کی روایتیں موجود ہیں اور یہ پہلا بیت اللہ ہے اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے متعلق جبل موریا والا دوسرا بیت ایل بعد کا ہے۔جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ذکر ہے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت تک ۲۵ سال اور سن بلوغ کم از کم پندرہ سال ہے۔یہ کل چالیس سال کا عرصہ ہوتا ہے جو ایک اندازہ ہے۔اگر اسے مدنظر رکھا