صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 20 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 20

صحيح البخاری جلد 4 ۵۹ - كتاب بدء الخلق أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ وَنُجْرِي كُلَّ چلتے ہیں اور یہ جو فرمایا: وَآيَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم ان دونوں میں سے ایک کو دوسرے سے نکال لیتے ہیں اور ان میں سے وَاحِدٍ مِنْهُمَا۔ایک کو دوسرے کے پیچھے چلاتے ہیں۔وَاهِيَةٌ (الحاقة: ۱۷) وَهَيْهَا تَشَقُقُهَا (اور فرمایا:) وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَّاهِيَةٌ اَرْجَابِهَا (الحاقة : ۱۸) مَا لَمْ يَنْشَقُّ اس سے مراد آسمان کا پھٹ جانا ہے (اور فرمایا :) وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجَاءِ هَا یعنی فرشتے اس کے مِنْهَا فَهُوَ عَلَى حَافَتَيْهَا كَقَوْلِكَ عَلَى کناروں پر ہوں گے۔تو اس سے مراد یہ ہے کہ جب أَرْجَاءِ الْبِئْرِ۔تک وہ نہیں پھٹے گا وہ (فرشتے) اس کے کناروں پر رہیں گے۔جیسے تم کہتے ہو عَلی اَرْجَاءِ الْبِشِّرِ یعنی کنوئیں کے کناروں پر۔أَغْطَشَ (النازعات (۳۰) وَ جَنَّ (نیز فرمایا: وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا اور فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ (الأنعام: ۷۷) أَظْلَمَ۔وَقَالَ الْحَسَنُ الَّيْلُ - ان آیات میں ) أَغْطَشَ اور جن کے معنی ہیں تاریک کر دیا اور اندھیرا ہوگیا۔اور حسن (بصری) كُوّرَتْ (التكوير : ٢) تُكَوِّرُ نے کہا: إِذَا الشَّمْسُ كُورَتْ اس کے معنی ہیں کہ يَذْهَبَ ضَوْءُهَا وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ سورج کو لپیٹا جائے گا۔یہاں تک کہ اس کی روشنی (الإنشقاق: ۱۸) أَيْ جَمَعَ مِنْ دَابَّةٍ بالکل نہ رہے گی (اور فرمایا: ) وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ اس کے معنے ہیں رات کی قسم اور ان کی قسم جن کو وہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔یعنی جاندار اتَّسَقَ (الإنشقاق : ۱۹) اسْتَوَى۔(اور یہ جو فرمایا: ) وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ تو یہاں اتَّسَقَ کے معنی ہیں جب وہ چاند سیدھا سر پر آجائے یا آہستہ آہستہ پورا چاند ہو جائے۔بُرُوجًا (الحجر: (١٧) مَنَازِلَ الشَّمْسِ (اور یہ جو فرمایا: تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ وَالْقَمَرِ۔بُروجًا یعنی بہت برکتوں والا ہے وہ خدا جس نے آسمان میں برج بنائے۔) برج سے مراد سورج اور چاند کی منزلیں ہیں۔