صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 19 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 19

صحيح البخاری جلد ۶ 19 ۵۹ - كتاب بدء الخلق سایہ دار درخت۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۵۶) فِرَاشًا بمعنی مِهَادًا ہے یعنی قرار گاہ۔جیسا کہ فرمایا: وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ (البقرة : ۳۷) تمہارے لئے زمین قرار کی جگہ ہے۔فِراش کے یہ معنی قتادہ اور ربیع بن انس سے مروی ہیں جو طبری نے موصول نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جز ء۶ صفحہ ۳۵۶) نکدا کے معنی ہیں قلیل جس سے نفع حاصل نہ کیا جاسکے۔اس سے آیت وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۚ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا (الأعراف:۵۹) یعنی عمده پستی اپنے رب کے اذن سے اپنی عمدہ روئیدگی نکالتی ہے اور جور ڈی ہو وہ رڈی پیدا وار ہی نکالے گی۔ان آیات کے ذکر سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ستاروں کے خداؤں وغیرہ کے ارادوں کا ان کاموں میں کوئی دخل نہیں جیسا کہ جوتشی خیال کرتے ہیں یا مشرک لوگ عقیدہ رکھتے ہیں اور ان سب امور پر تصرف اللہ تعالیٰ کا ہے اور اسی کے حکم سے ہوتے ہیں۔محولہ بالا آیتوں سے ستارہ پرستوں کے عقیدہ کارڈ کیا گیا ہے۔بَاب ٤ : صِفَةُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ بِحُسْبَانٍ (الرحمن: ٦) سورج اور چاند کے حساب کے ساتھ چلنے کے بارے میں بیان قَالَ مُجَاهِدٌ كَحُسْبَانِ الرَّحَى مجاہد نے کہا: حُسبان کے معنی چکی کے گھومنے کی طرح وَقَالَ غَيْرُهُ بِحِسَابٍ وَمَنَازِلَ گھومنے کے ہیں۔( یعنی سورج اور چاند دونوں گھوم لَا يَعْدُوَانِهَا ، حُسْبَانٌ : جَمَاعَةُ رہے ہیں ) اور ان کے سوا بعض دوسرے مفسرین نے کہا: بحسبان کے معنی ہیں سورج اور چاند حساب الْحِسَابِ مِثْلُ شِهَابٍ وَشُهْبَانِ سے اور مقررہ منزلوں میں چکر لگا رہے ہیں جن سے آگے وہ نہیں بڑھ سکتے۔حُسبان جمع ہے حِساب کی۔جیسے شِهَابٍ کی جمع شُهُبَان ہے۔ضُحُهَا (الشمس: ٢) ضَوْءُهَا۔اَنْ (اور یہ جو فرمایا: وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا تو اس کے معنی تُدْرِكَ الْقَمَرَ (يس: ٤١) لَا يَسْتُرُ ہیں (سورج اور ) اس کی روشنی کی قسم۔(اور یہ جوفرمایا: کا ضَوْءُ أَحَدِهِمَا ضَوْءَ الْآخَرِ وَلَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا ) أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ لَو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے ایک کی روشنی دوسرے کی يَنْبَغِي لَهُمَا ذَلِكَ۔روشنی کو نہیں ڈھانپ سکتی اور یہ بات ان کو سزاوار نہیں۔سَابِقُ النَّهَارِ (يس: ٤١) يَتَطَالَبَانِ (اور یہ جو فرمایا: وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ تو اس سے حَثِيثَيْنِ۔نَسْلَخُ (يس: (۳۸) نُخْرِجُ یہ مراد ہے کہ ( دن رات) ایک دوسرے کے پیچھے