صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 21
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱ ۵۹ - كتاب بدء الخلق فَالْحَرُورُ بِالنَّهَارِ مَعَ الشَّمْسِ (اور یہ جو فرمایا: وَلَا الظُّلُّ وَلَا الْحَرُورُ یعنی نہ سایہ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَرُؤْبَةُ : الْحَرُورُ اور نہ گرمی ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں۔ تو یہاں ) (فاطر: ۲۲) بِاللَّيْلِ، ، وَ السَّمُومِ حدود سے مراد دن کے وقت دھوپ کی گرمی ہے اور (الحجر: ۲۸) بِالنَّهَارِ۔ حضرت ابن عباس اور روبہ نے کہا: حَرُور رات کی گرمی کو کہتے ہیں اور سموم دن کی گرمی کو۔ يُقَالُ يُولِجُ (فاطر : ١٤) يُكَوِّرُ (اور فرمایا: يُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ وَلِيجَةً (التوبة : ١٦) كُلُّ شَيْءٍ فِي اللَّيْلِ تو یہاں) يُولِجُ کے معنی ہیں کہ وہ رات کو أَدْخَلْتَهُ فِي شَيْءٍ۔ لپیٹتے ہوئے دن میں اور دن کو لپیٹتے ہوئے رات میں داخل کر دیتا ہے۔ ہر وہ چیز جسے تم دوسری چیز میں داخل کرتے ہو، اسے وَلِيجَةٌ کہتے ہیں۔ ۳۱۹۹ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۳۱۹۹ : محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي ذَرٍ باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوذر ( غفاری) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرِّ حِيْنَ صلى اللہ علیہ وسلم نے جب سورج غروب ہو رہا تھا غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ حضرت ابوذر سے پوچھا تم جانتے ہو یہ سورج کہاں قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا جاتا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ جاتا ہے اور جا کر عرش کے تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ نیچے سجدہ کرتا ہے اور جانے کی اجازت مانگتا ہے اور فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَيُوْشِكُ أَنْ اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ زمانہ قریب ہے کہ تَسْجُدَ فَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا وَتَسْتَأْذِنَ و سجدہ کرے گا مگر اس کا سجدہ قبول نہ کیا جائے گا اور اجازت مانگے گا اور اسے اجازت نہ دی جائے گی۔ فَلَا يُؤْذَنُ لَهَا فَيُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ اسے کہا جائے گا: جہاں سے آئے ہو، وہیں لوٹ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِهَا فَذَلِكَ جاؤ۔ پھر جہاں ڈوبا تھا، وہاں سے سورج نکلے گا اور