صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 270 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 270

صحيح البخاری جلد ؟ ۲۷۰ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء كَمُ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ اَرْبَعُونَ سَنَةً: حضرت ابن عباس کی مذکورہ روایات کے بعد حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت ( نمبر ۳۳۶۶) نقل کی گئی ہے جس سے ظاہر ہے کہ بیت اللہ پہلی مسجد ہے اور بیت المقدس دوسری اور دونوں کے درمیان چالیس سال کا تفاوت ہے اور یہ دونوں مساجد تو حید کی اہم بنیاد ثابت ہوئیں۔امام ابن حجر نے اس روایت کے تعلق میں علامہ ابن جوزئی کا ایک اشکال نقل کیا ہے کہ بیت اللہ کی بنیا د حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے اُٹھائی گئی اور بیت المقدس کی حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذریعہ سے اور ان دونوں کے درمیان تقریبا ایک ہزار سال کا عرصہ ہے۔اس تعلق میں انہوں نے نسائی کی روایت کا بھی حوالہ نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر کی تھی یہ علامہ قرطبی نے اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ بیت اللہ اور بیت المقدس دونوں کی ابتداء حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے ذریعہ سے ہوئی۔ایک کی تجدید ہوئی اور دوسرے کی بنیاد رکھی گئی۔پھر وقتا فوقتا ان دونوں عبادت گاہوں کی تجدید و تعمیر مختلف زمانوں میں ہوتی رہی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا تعلق اصل وضع بنیاد سے ہے۔جس کا آغاز بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں سے ہوا اور ان دونوں عبادت گاہوں کی بنیاد کے درمیان تخمیناً چالیس سال کا عرصہ ہے۔جیسا کہ توریت کی کتاب پیدائش باب ۱۲ میں مذکور ہے کہ وہ حاران ( آسور یعنی عراق عرب ) سے ہجرت کر کے ملک کنعان ( فلسطین) میں آئے اور ایک قربان گاہ بمقام سکم ( نابلس ) میں اس جگہ بنائی، جہاں خداوندان پر ظاہر ہوا اور ان سے فرمایا کہ یہی ملک ( کنعان ) تیری نسل کو دوں گا اور پھر یہاں سے کوچ کر کے اس پہاڑ کی طرف گیا جو بیت ایل کے مشرق میں ہے اور وہاں اس نے خداوند کے لئے قربان گاہ بنائی اور خداوند سے دعا کی اور یہاں سے سفر کرتا کرتا جنوب کی طرف بڑھا اور جب اس ملک میں سخت کال پڑا، مصر کو گیا۔بوقت ہجرت وطن آپ کی عمر پچھتر برس بتائی گئی ہے اور ان سے خداوند کی طرف سے وعدہ کیا گیا ہے کہ زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلے سے برکت پائیں گے۔( پیدائش باب ۱۲ آیات ۳ تا ۱۰) باب ۱۳ میں ہے کہ مصر سے واپسی پر پھر اس بیت اللہ میں آئے جس کے مشرق میں مقام عي ہے اور جہاں انہوں نے قربان گاہ بنائی اور دعا کی تھی یہ نابلس والی قربان گاہ نہیں بلکہ فلسطین والا بیت ایل اور وہاں کی قربان گاہ ہے۔) باب ۱۴ میں حضرت لوط علیہ السلام کے وادی اردن میں سکونت اختیار کرنے کا ذکر ہے۔باب ۱۵ میں دریائے فرات سے دریائے مصر ( نیل) تک وسیع علاقے دیئے جانے کا ذکر ہے۔اور باب ۱۶ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش اور ان کی نسل سے بارہ سردار پیدا ہونے کے وعدہ کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کی نسل بہت بڑھے گی اور برکت پائے گی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی برس بتائی گئی ہے۔اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر تیرہ برس کی تھی جب ان کا ختنہ ہوا اور اس وقت حضرت ابراہیم کی عمر نانوے سال بتائی گئی ہے۔(پیدائش باب ۱۷) اور باب ۱۸ میں حضرت سارہ کو فرشتوں کی طرف سے بشارت دینے کا واقعہ مذکور ہے۔اور باب ۲۱ میں ان کے ہاں حضرت اسحاقی کی پیدائش کا ذکر ہے۔اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر سو سال بتائی گئی (سنن النسائی، کتاب المساجد، باب فضل المسجد الاقصى والصلاة فيه)