صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 269
صحيح البخاری جلد 4 ۲۶۹ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء ایک کنواں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لیا اور لڑکے کو پلایا۔( پیدائش باب ۲۱ آیات ۱۹ تا ۲۱) کتاب پیدائش کے ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ اس کا بیان اس بیان سے مختلف نہیں جو روایت حضرت ابن عباس میں ہے۔دونوں بیانوں میں قدر مشترک موجود ہے اور اس سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ حضرت ابن عباس کی روایت کا ماخذ دراصل وہی قصے ہیں جو اسرائیکی اور اسماعیلی اقوام میں متداول تھے۔دشت فاران جس کا ذکر پیدائش کی کتاب میں ہے کہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اس میں سرگرداں رہیں، دشت سینا تک ممتد تھا اور دونوں بیابانوں میں سرسبز علاقے اور وادیاں اور آبادیاں قدیم الایام سے موجود تھیں۔یورپ کے مسیحی سیاحوں اور مؤرخین نے ان کا ذکر اپنے سیاحت ناموں اور تاریخوں میں کیا ہے۔نمونہ کے لئے دیکھئے صفحہ ۱۹۶ سیاحت نامه کارل بیڈ کر (Karl Baedekar) قبیلہ جرہم جس کا ذکر روایت میں ہے عمالقہ مصر میں سے تھا۔جو سامی النسل لوگ تھے اور طور سینا اور مصر میں حکمران رہے۔اسی قبیلے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی ہوئی جو کلدانی الاصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ان کی بیوی کا نام رغلہ مذکور ہے۔جس سے بارہ بیٹے پیدا ہوئے۔جو بارہ قبیلوں اور ان کی شاخوں کے جدامجد ہوئے۔مذکورہ بالا روایت پر جو امر خاص طور پر قابل التفات ہے وہ تعمیر کعبہ یا تجدید بیت اللہ العتیق ہے۔جس کا ذکر کتاب الحج باب ۴۲ میں گزر چکا ہے۔قدیم الایام میں قومیں بڑے بڑے واقعات سے اپنی قومی تاریخ کے تعین میں مدد لیا کرتی تھیں۔مثلاً عبرانی الاصل قوم اسرائیل نے ہیکل سلیمان کی تعمیر یا بخت نصر کے ہاتھوں اس کی تخریب سے اپنی تاریخ کی نشاندہی کی ہے۔اسی طرح اسماعیلی النسل اقوام نے تعمیر کعبہ یا ابرہہ کے ہاتھوں اس کی تخریب کو عام الفیل یا سیل العرم کا ذکر کر کے اس سے واقعات کا تعین کیا ہے اور آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ سے تاریخ شمار ہونے لگی جومصری مؤرخ محمود پاشا فلکی مرحوم کے حساب کی رو سے یوم الاثنین ( دوشنبہ ) ۲۰ ستمبر ۶۲۲ ء ہے اور جو عاشورہ کا دن ہے اور یہودی تاریخ کے مطابق ۱۰ تشتری ہے۔(دیکھئے تاریخ دول العرب تالیف محمد طلعت جز اول صفحه ۵۱ ۵۲ ) غرض حضرت ابن عباس کی روایت سے ہمیں اسماعیلی النسل اقوام کی ابتدائی تاریخ کا علم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی علم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے تجدید و تعمیر کعبہ الہی منشاء کے تحت ہوئی تھی۔یونہی اتفاقی امر نہ تھا۔جس کی اہمیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے دور رس نتائج سے ظاہر ہے اور ان نتائج کی مستقبل ہی مزید نقاب کشائی کرے گا۔کیونکہ وہ ابھی ختم نہیں ہوئے۔بلکہ ان کے ایک نئے دور کا آغاز بیسیویں صدی میں ابھی ہوا ہے۔روایت نمبر ۳۳۶۴، ۳۳۶۵ میں آیت رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ۔۔۔يَشْكُرُونَ (ابراهيم: (۳۸) اور آیت وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ۔۔۔كا حوالہ دے کر باپ بیٹے کی دعا رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ) (البقرة: ۱۲۸) کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ نئی تعمیر دعائے ابراہیم علیہ السلام کی برکت کا نتیجہ ہے۔ط