صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 268 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 268

صحيح البخارى- جلد 4 ۲۶۸ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء پندرھویں روایت نمبر ۳۱۲۷ کا تعلق بیت اللہ کی تجدید سے ہے جو تین طریق پر حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور واسطہ نقل روایت متینوں طریق میں سعید بن جبیر تابعی ہیں۔پہلے طریق ( نمبر ۳۳۶۲) میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔مگر اس کے ساتھ (نمبر ۳۳۶۳) وَقَالَ الأنْصَارِيُّي کہہ کر بسند ابن جريج الفاظ مَا هكَذَا حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاس سے بحوالہ سعید بن جبیر اس امر کی نفی ہے یعنی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کی۔وَلَكِنَّهُ قَالَ بلکہ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کو لے کر آئے۔۔۔۔یہ روایت سعید بن جبیر کے بیٹے عبداللہ نے اپنے باپ (سعید) سے نقل کی ہے۔دوسرا طریق نقل ( نمبر ۳۳۶۴) معمر کی روایت ہے۔انہوں نے ایوب سختیانی اور ابن کثیر بن مطلب بن ابی وداعہ کی وساطت سے سعید بن جبیر کی مذکورہ بالا روایت بسند حضرت ابن عباس نقل کی ہے۔دونوں راویوں کی روایت مرفوع نہیں۔یعنی اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرنے کا ذکر نہیں۔حضرت ابن عباس ہی کا قول مروی ہے۔علاوہ ازیں (يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ) دونوں ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتے تھے۔تیسرا طریق نقل ( نمبر ۳۳۶۵) ابوعامر عبد الملک بن عمر و ہیں۔اس میں بھی واسطه روایت سعید بن جبیر ( عن ابن عباس) ہی ہیں اور یہ روایت بھی مرفوع نہیں۔طرز بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت ابن عباس نے جو واقعہ حضرت ہاجرہ و حضرت اسماعیل علیہما السلام کا بتایا ہے، وہ وہی ہے جو زبان زد خلائق اور عربوں میں مشہور تھا۔ہر قوم میں اپنے بزرگوں سے متعلق روایات نقل کی جاتی ہیں جو بوجہ شہرت نقل قومی تاریخ کا حصہ ہوتی ہیں۔توریت کے صحیفوں میں زیادہ تر ذکر حضرت اسحاق و حضرت یعقوب علیہما السلام اور اسرائیلی گھرانوں سے محدود ہے۔صرف اس قدر ذکر ہے کہ ابراہام نے صبح اٹھ کر روٹی اور پانی کی مشک لی اور ہاجرہ کو دی۔بلکہ اس کے کندھے پر وہ رکھی اور لڑ کے اسماعیل کو بھی اس کے حوالہ کر کے اسے رخصت کر دیا۔سو وہ چلی گئی اور بئر سبع کے بیابان میں آوارہ پھرنے لگی اور جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو اس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نیچے ڈال دیا۔تب ایک فرشتے نے ہاجرہ کو تسلی دی اور کہا: اُٹھے اور لڑکے کو اُٹھا اور اسے اپنے ہاتھ سے سنبھال۔کیونکہ ( خداوند نے کہا ہے ) میں اس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔( پیدائش باب ۲۱ آیات ۱۴ تا ۱۸) اور اسی باب میں ہے کہ اسحاق سے تیری نسل کا نام چلے گا اور اس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا۔اس لیے کہ وہ تیری نسل ہے۔( پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۳:۱۳) اور باب ۱۵ آیات ۱۸ تا ۲۱ میں مذکور ہے: اسی روز خداوند نے ابراہام سے عہد کیا اور فرمایا: ” یہ ملک دریائے مصر سے لے کر اُس بڑے دریا یعنی دریائے فرات تک قینیوں اور قنیز یوں اور قدمونیوں اور حتیوں اور فرزیوں اور رفائیم اور امور یوں اور کنعانیوں اور جر جاسیوں اور یہوسیوں سمیت میں نے تیری اولاد کو دیا ہے۔اس وسیع علاقے میں ارضِ حجاز بھی شامل ہے جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ ہاجرہ بیر سبع کے میدان میں پریشان پھرنے لگی اور اس کے ساتھ اس امر کا بھی صریح ذکر ہے کہ خدا اس لڑکے ( یعنی اسماعیل) کے ساتھ تھا اور وہ بڑا ہوا اور بیابان میں رہنے لگا اور تیرانداز بنا اور وہ فاران کے بیابان میں رہتا تھا اور اس کی ماں نے ملک مصر سے اس کے لئے بیوی لی۔اور یہ بھی اس جگہ مذکور ہے کہ پھر خدا نے اس کی (یعنی ہاجرہ کی ) آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا