صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 267
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۶۷ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء ہے۔ حضرت انس سے بھی مفصل مروی ہے۔ اس میں كَذَبَات کے الفاظ نہیں بلکہ یہ الفاظ ہیں: فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمُ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ - یعنی قیامت کے روز لوگ حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور حضرت عیسی علی علیہم السلام کے پاس شفاعت کی غرض سے آئیں گے۔ ان میں سے ہر ایک اپنی لغزش یاد کر کے معذرت کرے گا۔ آخر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور آپ کو شفاعت کرنے کا اختیار دیا جائے گا اور آپ شفاعت فرمائیں گے اور بہت سے لوگ نجات پائیں گے۔ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ سوا ان کے جنہیں قرآن روک رکھے۔ حضرت انس کی یہ حدیث مرفوع ہے۔ روایت نمبر ۳۳۶۱ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے۔ اس کے آخر میں حضرت انس کی مذکورہ بالا حدیث کا حوالہ دیا گیا - یہ کتاب التوحید باب ۱۹ روایت نمبر ۷۴۱۰ ۱۹۰ روایت نمبر ۰ ۷۴۱ میں بھی الگ سند سے موصولاً مروی ہے ، اس میں بھی کذب کا ذ کذب کا ذکر نہیں، خطيئة كا لفظ ہے جو لغزش، کوتاہی اور سہو و نسیان پر بھی اطلاق پاتا ہے۔ امام بخاری کے حسن استخراج میں سے ہے کہ احادیث و آیت لَمْ يَلْبِسُوا کے بعد حضرت ابو ہریرہ کی حدیث شفاعت نقل کی ہے اور اس کے آخر میں حضرت انس کی مرفوع حدیث کا بھی حوالہ دے دیا ہے، ان دونوں احادیث میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام کے احساس لطیف اور خشیت اللہ کا ذکر ہے جو انتہائی درجہ کا ہوگا۔ تبلیغ حق اور ہدایت و تربیت قوم سے متعلق کسی فروگزاشت یا کوتاہی کی وجہ سے انہیں جرات نہ ہوگی کہ بارگاہ ایزدی میں آگے بڑھ کو لوگوں کی سفارش کر سکیں۔ امام موصوف کے اس طرز عمل سے دو باتیں ظاہر ہیں۔ اول یہ کہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت کو آیت لَمْ يَلْبِسُوا کے تابع رکھا ہے اور دوم ا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بیان کی طرف توجہ دلائی ہے جو مرفوع ہے اور اس میں كَذَبَات کی جگہ خَطِيئَة کا لفظ وارد ہوا ہے، جو عام بھول چوک کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی خطاؤں کو عام لوگوں کی غلط کاریوں پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا روئے سخن جب لوگوں سے ہوتا ہے تو آپ کی شانِ تقدس مآب بہت بلند نظر آتی ہے۔ (زبور باب ۳۴ تا ۳۷) اور جب اللہ تعالیٰ سے مخاد مخاطب ہوتے ہیں ہیں تو تو اپنی دعاؤں میں اپنے آپ کو خطا کار، غایت درجہ درجہ حقیر حقیر اور اور گنہگار گہ وغیرہ الفاظ سے یاد کرتے اور طالب عفو و رحم ہوتے ہیں۔ (زبور باب (۳۸) ایک حالت میں مقام تعلی و معصومیت ہے اور دوسری حالت میں مقام عجز و تواضع ۔ دونوں مقام برحق ہیں۔ علاوہ ازیں یہ مد نظر رہنا چاہیے کہ لفظ كَذَبَات بھی اسی مفہوم میں وارد ہوا ہے جس کی تفصیل سابقہ روایات میں گزر چکی ہے۔ امام بخاری نے ترتیب ابواب وروایات میں تقدیم و تاخیر ملحوظ رکھی ہے جو بات مقدم بیان کی ہے وہ قابل ترجیح اور جو مؤخر ہے وہ مقدم کے تابع ۔ انبیاء علیہم السلام کی خشیت سے متعلق جو نظارۂ حشر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دکھایا گیا ہے، وہ از قبیل مکاشفات ہے جیسا کہ باب ۸ کی روایت نمبر ۳۳۵۰،۳۳۴۹ میں گزر چکا ہے۔ اس تعلق میں مزید دیکھئے کتاب الرقاق باب ۵۰ ۵۱۔