صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 266
حيح البخاري - جلد ٦ ۲۶۶ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء والے جانوروں کی فہرست میں شامل ہے۔جن سے مشرکانہ تو ہمات وابستہ رہے ہیں۔ان میں سے مگر مچھ بھی ایک دیوتا سمجھا اور پوجا جاتا تھا۔گرگٹ کی سینکڑوں قسمیں ہیں۔علماء حیوانات نے اڑھائی ہزار قسم شمار کی ہے۔بعض چھوٹے اور بعض بڑے۔انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا) ان میں سے ورغ گرگٹ کی وہ قسم ہے جو رنگ تبدیل کرتا رہتا ہے۔اس کی چھوٹی اور بڑی قسم کو سام ابرص بھی کہتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے لعاب یا چھونے سے برص کی بیماری ہو جاتی ہے۔حضرت ام شریک کا اس کے مارڈالنے کی نسبت دریافت کرنا بلا وجہ نہ تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ عرب لوگ اس کا مارنا اسی طرح گناہ سمجھتے تھے جس طرح ہندوؤں کے نزدیک نیل کنٹھ کو مارنا گناہ ہے۔وہ نیل کنٹھ کو ہاتھ باندھ کر سلام کرتے اور اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔اسی قسم کی توہم پرستی منانے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کے مارنے کی اجازت دی جو موذی جانوروں میں سے ہے اور ضمناحر با طبع کا ہنوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔مذکورہ بالا حدیث امام احمد بن حنبل اور ابن ماجہ نے بھی حضرت عائشہ سے نقل کی ہے۔اس میں ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے تو زمین کے ہر جانور نے انہیں اس سے محفوظ رکھنے کے لئے آگ بجھائی إِلَّا الْوَزَغ سوائے حرباء کے یہ (فتح الباری جزء 4 صفحہ ۴۷۷) امر واقعہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے بچائے گئے۔اس لئے ظاہر ہے کہ ملکی تصرفات کی نیک تحریکات نے قوم کو ان کے حق میں بھلائی کی طرف مائل کر دیا جو تحریکات جنس خبیث کے منصوبوں پر غالب آگئیں جس کی وجہ سے وہ ہجرت کر سکے۔تیرھویں روایت (نمبر ۳۳۶۰) کی تشریح کے لئے دیکھئے کتاب الایمان باب ۲۳۔بعض شارحین کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعلق میں یہ روایت بے محل ہے۔لیکن امام ابن حجر نے اس کا تعلق واضح کیا ہے کہ آیت وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الأنعام: (۸۳) حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے تعلق میں وارد ہوئی ہے اور اس میں ان کا یہ قول مذکور ہے: وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكُتُمُ (الأنعام: ۸۲) یعنی میں اس (چیز ) سے جسے تم خدا کا شریک بناتے ہوکس طرح ڈرسکتا ہوں جبکہ اس (چیز) کو جس کے متعلق اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری، تم اللہ کا شریک بنانے سے نہیں ڈرتے۔سو اگر تم (کچھ) علم رکھتے ہو تو ( بتاؤ کہ ) ہم دونوں فریق میں سے کونسا امن میں رہنے کا زیادہ مستحق ہے۔جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا، انہی لوگوں کے لئے امن (مقرر ) ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔اس آیت کے سیاق سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام توحید باری تعالیٰ کی راہ میں نڈر تھے۔شرک کا شائبہ تک ان میں نہ تھا۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۴۷۷) غرض جو جھوٹ ان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ ان کے وصف شجاعت و کمال ایمان کے منافی ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ روایت مذکورہ بالا برمحل ہے۔چودھویں روایت (نمبر ۳۳۶۱) حدیث الشفاعۃ کا حصہ ہے جو کتاب الرقاق باب ۵۱ روایت نمبر ۶۵۶۵ میں سنن ابن ماجه، کتاب الصيد، باب قتل الوزغ) (مسند احمد بن حنبل حديث السيدة عائشة رضي الله عنها، جزء ۶ صفحه ۲۱۷)