صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 265 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 265

صحيح البخاری جلد ٦ ۲۶۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کا باعث بھی بن جا۔اور فرماتا ہے : فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرَقُوهُ فَأَنجَهُ اللهُ مِنَ النَّار إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ) (العنکبوت: (۲۵) حضرت ابراہیم کی قوم کا جواب اس بات کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ اسے قتل کر دو یا اسے جلا دو۔مگر اللہ نے اسے آگ سے بچالیا۔اس میں یقینا مومن قوم کے لئے بڑے نشان ہیں۔قدیم زمانے میں بدعتی اور مرتد کی سزا قتل یا جلا نا تھی اس لیے کا بہنوں نے انہیں جلانے کی سزا پر اتفاق کر کے قوم کو اس کے لئے برانگیختہ اور آمادہ کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کا ہنوں کا یہی حرباء ( گرگٹ ) طبع اور زمانہ ساز گر وہ تھا جس کا ذکر قرآن مجید میں وارد ہوا ہے کہ انہوں نے اشتعال انگیزی سے قوم کو افروختہ کیا۔حضرت مسیح علیہ السلام بھی اسی طبقہ کہنوت کی نسبت فرماتے ہیں: اے ریا کارو! فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس کہ نبیوں کی قبریں بناتے اور راستبازوں کے مقبرے آراستہ کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اگر ہم اپنے باپ دادا کے زمانہ میں ہوتے تو نبیوں کے خون میں ان کے شریک نہ ہوتے۔(متی باب ۲۳ آیت ۲۹) اور انہوں نے اپنے شاگردوں سے فرمایا: اس ضمیر سے ہوشیار رہنا جو فریسیوں کی ریا کاری ہے۔(لوقا باب ۱۲ آیت ۲) سوگرگٹ کے ذکر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن اسی بد فطرت گروہ کی طرف منتقل ہوا ہے جو نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام بلکہ ہر نبی کے زمانہ میں پایا گیا ہے اور جس کا وطیرہ اشتعال انگیزی اور تکفیر بازی رہا ہے۔حدیث شریف میں ایسا منفتنی شخص ذُو الوَجْهَيْن (دورا) اور شَرُّ النَّاسِ (پرلے درجہ کا شریر) قرار دیا گیا ہے۔يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجُهِ وَيَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجُهِ۔یعنی ان کے پاس آ کر کچھ کہتا ہے اور ان کے پاس جا کر کچھ اور۔اس طرح فتنہ برپا کرتا ہے۔اس قماش کے لوگ ہی گرگٹ صفت ہوتے ہیں۔(صحيح البخارى، كتاب المناقب، بابا، روایت نمبر ۳۴۹۴) یادر ہے کہ الوزغ اسم جنس ہے اور از روئے عربی قواعد صرف و نحو مرد کا صیغہ ہے۔اس لئے فعل مفرد (كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ) وارد ہوا ہے۔لیکن مراد جمع ہے اور وہ حرباء طبع سرغنے ہیں جو انبیاء کی مخالفت میں طرح طرح کے رنگ بدلتے اور ملمع سازی سے کام لیتے ہیں۔غرض تشبیہ، استعارہ، مجاز اور کنایہ وتعریض سے کوئی کلام جھوٹا نہیں سمجھا جاتا۔انا جیل میں تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یہاں تک ذکر ہے کہ انہوں نے ریا کار فقیہوں اور فریسیوں کو سانپ سے تشبیہ دی اور انہیں ان الفاظ سے مخاطب کیا: ”اے سانپو! اے افعی کے بچو! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے۔“ (متی باب ۲۳ آیت ۳۲) بلکہ آپ نے خنزیر کے نام سے بھی انہیں یاد فرمایا ہے اور یہی یہی کلام جھوٹ نہیں کہلا تا بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔کیونکہ اس سے صفات کی مماثلت مراد ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حرباء ( گرگٹ ) کے ذکر پر ان کا ہنوں ہی کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلا دینے کے لئے آگ کی چتا تیار کی تھی لیکن وہ ناکام ہوئے۔اس تعلق میں یہ ذکر بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ مشرک قوم اعجوبہ پرست ہوتی ہے۔ہند و نیل کنٹھ اور سانپ وغیرہ کو مقدس جانور یقین کرتے ہیں۔جس طرح نیل کنٹھ کو اپنے شوخ رنگ پروں کی وجہ سے ان کے نزدیک مقام تقدس حاصل ہے اور اسے کسی ( موہوم ) دیوتا کی سواری یقین کرتے ہیں۔اسی طرح گرگٹ بھی اپنے رنگ تبدیل کرنے کی وجہ سے نہ صرف منافقت اور ریا کاری کے لئے ضرب المثل ہے بلکہ محل اجو بہ اور تو ہم پرستی تھا اور سامی النسل اقوام میں یہ ان رینگنے