صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 264 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 264

صحيح البخاری جلد ٦ ۲۶۴ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء کی گئی ہے کہ اس نے دربانوں کو بلایا اور کہا کہ تم کوئی انسان نہیں لائے بلکہ شیطان لے آئے ہو۔شیطان کا لفظ حجاز ومصر وغیرہ ممالک میں جنات وغیرہ غیر مرئی مخلوق کے لئے بولا جاتا تھا۔اس لفظ سے راوی نے وہی مفہوم ادا کیا ہے جو تورات کے قصے میں ہے۔امام بخاری نے اپنے معمول کے مطابق اس اسرائیلی روایت کو آیات معنونہ کے تحت رکھ کر قارئین پر چھوڑا ہے کہ جو حصہ قرآن مجید کے مطابق ہو وہ قبول کیا جائے اور جو مطابق نہیں ہے وہ چھوڑ دیا جائے۔صحیح بخاری کے ابواب قائم کرنے میں امام بخاری کا یہی طریق عمل ہے۔ان کے نزدیک صحت و سقم کا دارو مدار قرآن مجید پر ہے۔بارہویں روایت نمبر ۳۳۵۹) بھی منکن اور حرف عطف آؤ کے ساتھ مروی ہے۔یعنی امام بخاری سے یہ حدیث بیان کرنے والے محمد بن سلام ہیں یا عبداللہ بن موسیٰ جو امام موصوف کے اکابر مشائخ میں سے ہیں۔امام ابن حجر کے نزدیک یہ ثابت ہے کہ اس حدیث کے راوی محمد بن سلام ہی ہیں۔ابن جریج اور ان کے بعد کے سب راوی حجازی ہیں۔جبیر، شیبہ بن عثمان حجی کے بیٹے ہیں اور اُم شریک خاندان بنی عامر بن لوئی کی ایک خاتون ہیں۔جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گرگٹ کے مار ڈالنے کی نسبت پوچھا تو آپ نے اس کی اجازت دی۔جیسا کہ ایک روایت میں اسْتَأْمَرَتْ۔۔۔۔فَأَمَرَهَا کے الفاظ سے صراحت ہے۔(مسلم، کتاب السلام، باب استحباب قتل الوزغ) لیکن اس روایت میں آخری حصہ نہیں۔یعنی الفاظ وَقَالَ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ - جو روایت اسماعیلی نے بواسطة سمي قطان اور ابو عاصم ، ابن جریج ہی سے نقل کی ہے۔ان دونوں کی سند وہی ہے جو صحیح بخاری میں حرف عطف آؤ کے ساتھ مروی ہے۔جو شک و تردد کی غرض سے نہیں اختیار کیا گیا۔سند یہ ہے: عَنْ أَبِي جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مُسَيَّبِ عَنْ أُمّ شُرَيْك با وجود یہ کہ سند روایت ایک ہی ہے اور روایت کرنے والے دو بلند پایہ ثقہ راوی ہیں۔آخر کا حصہ ان کی روایت میں بھی مروی نہیں اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاری نے یہاں ایسی روایت کا کیوں انتخاب کیا ہے جس میں آخری حصہ مروی ہے اور جو امام ابن حجر کے نزدیک عند التحقیق ثابت ہے کہ محمد بن سلام نے ہی ان سے بیان کیا ؟ امام ابن حجر کو اسے آؤ سے روایت کرنے پر تعجب ہے اور لکھا ہے کہ یہ طریق امام بخاری نے کئی جگہ اختیار کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۷۷) موقع ومحل کی مناسبت سے ہر جگہ بنایا جا چکا ہے کہ امام بخاری کا یہ تصرف بلاوجہ نہیں ہوتا۔یہاں ان کے مد نظر ماقبل روایت کے تعلق میں یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح نکتہ پسند تھی اور آپ نے بھی بعض وقت استعارہ و مجاز اور کنایہ تعریض سے کلام فرمایا ہے جو بظاہر خلاف واقعہ معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ صحیح ہے۔وَكَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ سے وہ کا ہن مراد ہیں جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف مخالفت کی آگ بھڑکائی۔ان کی اس اشتعال انگیزی کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔فرماتا ہے: قَالُوا حَرِقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَعِلِينَ 0 قُلْنَا يُنَارُ كُوْنِي بَرْدًا وَّسَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ ) (الأنبياء: ۶۹-۷۰) انہوں نے کہا: اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو، اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔تب ہم نے کہا: اے آگ ! تو ابراہیم کے لئے ٹھنڈی بھی ہو جا اور اس کے لئے سلامتی