صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 263
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء روایت نمبر ۳۳۵۸ کا خاتمہ بھی قابل توجہ ہے ۔ آخری الفاظ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ہی نے مذکورہ بالا بات بعض راویوں کو بتائی ہے اور انہوں نے اپنے الفاظ میں نقل کی۔ بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ سے اہل حجاز مراد ہیں۔ کیونکہ ان کی معیشت کا دارو مدار برسات پر تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ فخریہ ہیں۔ کیونکہ بنو اسرائیل عربوں کو حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی نسل ہونے کی وجہ سے طعنہ دیتے تھے کہ وہ مصری لونڈی کی اولاد ہیں۔ تورات میں بھی وہ مصری لونڈی ہی مذکور ہیں۔ ( پیدائش باب ۱۶ آیات ۳ تا ۲ ) روایت نمبر ۳۳۵۸ کے فقرہ أَخْدَمَهَا هَاجَرَ سے بھی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت سارہ کو حضرت ہاجرہ بطور خادمہ دی گئی تھیں ۔ امام ابن حجر نے لکھا ہے کہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام قبطیوں کے شاہی خاندان میں سے تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں سامی النسل بادشاہ مصر میں حکومت کرتے تھے اور آجر یا ہاجر نام بھی سریانی زبان کا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۷۶) اسلامی اور اسرائیلی روایات کا جو قدر مشترک ہے، اس۔ ہے، اس سے ظاہر ہے کہ کوئی واقعہ ایسا ہوا ہے جس سے فرعون مصر حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ علیہما السلام کی نیکی سے متاثر ہوا اور ان سے عزت و اکرام کے ساتھ پیش آیا اور قحط کے زمانہ میں انہیں بہت مال و دولت دے کر رخصت کیا۔ اس سفر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ حضرت لوط علیہ السلام بھی مع اپنے خاندان کے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مصر کی طرف نامساعد حالات میں قصد کرنا بلا وجہ نہیں تھا۔ آسور، کنعان اور مصر کے درمیان نسلی روابط اور صلہ رحمی کے تعلقات تھے۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب یسعیاہ باب ۱۹۔ ارض القرآن کے مصنف سلیمان ندوی مرحوم نے کتاب پیدائش باب ۱۶ کی شرح کا حوالہ نقل کیا ہے جس کا شارح ایک یہودی عالم ربی شلو ملو الحق ہے۔ ( شلوم عبرانی میں سلام کا تلفظ ہے ) اس نے لکھا ہے کہ شاہ مصر نے حضرت سارہ کی وجہ سے کرامات دیکھیں تو کہا: میری بیٹی کا اس کے گھر میں لونڈی ہو کر رہنا دوسرے گھر میں ملکہ ہو کر رہنے سے بہتر ہے۔ (ارض القرآن، ہاجرہ - جز ۲ صفحہ ۴۱ ) اسی صفحہ پر انہوں نے سفر الیشار کا حوالہ بھی جو یہود کی معتبر تاریخ ہے نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں مصر کا بادشاہ ان کا ہم وطن تھا۔ ان حوالوں سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے گہرے تعلقات کی وجہ سے اپنی ہجرت گاہ سکم ( نابلس ) سے بوقت قحط مصر گئے ۔ غرض حضرت ہاجرہ علیہا السلام لونڈی نہ تھیں۔ بلکہ مصری شاہی خاندان کی بیٹی تھیں جنہوں نے ایک اور اسرائیلی روایت کے مطابق حضرت سارہ علیہا السلام کے گھر میں ان کے تقوی و تقدس اور خدا پرستی کی وجہ سے بطور لونڈی رہنا خود پسند کیا۔ (The Jewish Encyclopedia, under word:Hagar, In Rebbinical Literature) دونوں روایتوں کا شخص یہی ہے کہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام حسب و نسب میں شریف زادی تھیں لونڈی نہ تھیں۔ جس کی تصدیق حضرت ابو ہریرہ والی روایت سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض شارحین نے فقرہ تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ کے یہ معنی کئے ہیں کہ نسب کے لحاظ سے تم ایسے ہی خالص ہو جیسے آسمان کا پانی۔ (فتح الباری جے اری جزء ۶ صفحه ۴۷۶) غرض روایت نمبر ۳۳۵۸ کے آخری حصے سے بھی ظاہر ہے کہ یہ روایت باللفظ نہیں بلکہ بالمعنی ہے اور اس میں اضافہ راوی کی طرف سے ہے نہ کہ حضرت ابو ہریرہ کی طرف سے، کیونکہ اس روایت میں فرعون کی طرف یہ بات منسوب