صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 262
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۶۲ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء میں بصراحت مذکور ہے: فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (العنكبوت: ۲۷) لوط نے اس کی دعوت قبول کی اور وہ مومن تھا) اور (ابراہیم نے) کہا: میں تو اپنے رب کی خاطر اپنے وطن سے جا رہا ہوں۔ وہ یقیناً عزیز ( و ) حکیم ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ غیر مرفوع روایت کے الفاظ میں خامی ہے اور یہ خامی اس لئے ہے کہ روایت باللفظ نہیں۔ بلکہ بالمعنی ہے۔ یادر ہے کہ فن حدیث کے ماہرین نے روایات کی دوقسمیں بیان کی ہیں۔ ایک روایت باللفظ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ صحت وضبط کے ساتھ نقل کئے گئے ہوں اور دوسری قسم روایت بالمعنی جس میں الفاظ کا خیال نہ رکھا گیا ہو صرف مفہوم ادا کیا گیا ہو۔ پس ایسی روایت جو نہ تو با لفظ درست ہوا اور نہ بالمعنی اور احاد میں سے ہو اور پھر قرآن کریم کے صریحاً خلاف بھی کسی طرح قابل توجہ ہو سکتی ہے۔ اس لئے امام فخر الدین رازی نے حضرت ابو ہریرہ کی اس روایت کے بارے میں اس بات کو ترجیح دی ہے کہ وہ صحیح تسلیم نہ کی جائے۔ کیونکہ وہ قرآن مجید کی تصریحات کے مخالف ہے اور اس مسلمہ اور متفقہ اسلامی عقیدہ کے خلاف بھی ہے کہ انبیاء اور رسل معصوم ہوتے ہیں اور جھوٹ کسی شکل میں بھی ان کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ورنہ ان کے منصب رسالت سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے۔ بلکہ اس سے حیلوں کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔ ( مفاتیح الغيب للرازي، البقرة آیت ۴۸، مريم مریم آیت (۴۱) اس لئے ایسی روایت کی نسبت یہ تسلیم کر لینا زیادہ آسان ہے کہ راوی کی غلط نہی ہے یا اس کا سہو ونسیان کہ وہ پوری بات سمجھ نہیں سکا یا بھول گیا ہے۔ لیکن یہ نہایت مشکل ہے کہ وہ روایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دی جائے۔ بحالیکہ بعض راویوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار ہی نہ دیا ہو۔ ان کی روایت میں الفاظ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ موجود نہیں۔ جیسا کہ روایت زیر باب ۳۳۵۸ ابن سیرین نے صرف حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے نقل کی ہے اور ان سے باقی نقل کرنے والے سب تابعین ہیں۔ صحابی ایک بھی نہیں ۔ گو یہ روایت صحت سند کے اعتبار سے بلا شبہ مشہور روایت ہے اور صحیحین نے اسے قبول کیا ہے۔ لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے تابعین کو یقیناً مغالطہ ہوا ہے۔ وہ الفاظ کو محفوظ نہیں رکھ سکے۔ کیونکہ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو رات اور اسرائیلی روایات سے واقف تھے اور یہی قصہ کہ اس کا ذکر مذکورہ بالا ا ہ بالا الفاظ میں پیدائش باب ۱۲ آیات ۱۰ تا ۔ ۲۰ میں اب تک موجود ہے، حضرت ابو ہریرہ نے اس بارہ میں جو کچھ بیان کیا ہے، اپنی طرف سے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان نہیں کیا۔ بلکہ وہی بات بیان کی ہے جو تورات میں مذکور ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رو فرمادی ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ امر خلط ملط راوی کی روایت بالمعنی میں واقع ہوا ہے، توریت کے بیان کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے سے بآسانی معلوم ہو سکتا ہے۔ مثلاً اس میں یہ تو ہے کہ خداوند نے فرعون اور اس کے خاندان پر حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ کے سبب سے بڑی بڑی بلائیں نازل کیں۔ لیکن ان بلاؤں کی تفصیل مذکور نہیں جو راوی کی روایت میں مذکور ہے اور نماز پڑھنے یا دعا کرنے کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ یہ قصہ اسرائیلی روایات میں ہو تو ہولیکن تو رات میں نہیں۔ اس لئے یہ امر یقینی ہے کہ یہ خلط ملط راوی کی طرف سے واقع ہوا ہے، نہ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے جو واقف تو رات تھے۔