صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 261
صحيح البخاری جلد 4 ۲۶۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء کچھ کھاتے نہیں تمہیں کیا ہوا کہ تم بولتے بھی نہیں۔پھر چپکے سے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک کاری ضرب ان پر لگائی۔اسلوب بیان وہی ہے جو سورۃ الانبیاء میں اختیار فرمایا گیا ہے۔مشرک تاثیرات کو اکب پر یقین رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ان میں ستارہ پرستی رائج تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے باطل ثابت کیا اور ستاروں کو دیکھ کر فرمایا: تمہارے زا بچوں اور علم نجوم کے مطابق تو میں اس وقت بیمار ہونے والا ہوں اور آپ کا یہ فرمانا کاہنوں کے طریق پر تو ٹھیک تھا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ بیمار نہیں ہوئے۔گویا اس طرح مشرکین کو انہی کے مایہ ناز علم جوتش کے ذریعہ جھوٹا ثابت کیا اور توحید باری تعالیٰ کی تلقین ایسے طریق سے فرمائی جو ایک حجت بالغہ ہے۔جھوٹ سے اس کا ہرگز تعلق نہیں۔امام ابن حجر نے انِي سَقِيمٌ کے معنی سَأَسْقِمُ ہی کہتے ہیں۔یعنی عنقریب میں بیمار ہوں گا اور لکھا ہے کہ فاعل کبھی مستقبل کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۴۷۳) کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قول انی سقیم کا تعلق آیت فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ سے تب ہی بامعنی ہو سکتا ہے جب ستارہ پرستوں کا عقیدہ مد نظر رکھا جائے کہ وہ ستاروں کی تاثیرات و تصرفات کے قائل تھے اور اب تک ہیں۔جس کا بطلان سارے سیاق کلام سے واضح ہے۔غرض اکابر علماء سلف کے نزدیک آنحضرت ﷺ نے لَم يَكْذِبُ کہہ کر در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جھوٹ کی نفی فرمائی ہے۔۳ ایک اور واقعہ جو روایت کی بعض سندوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بیان کیا جاتا ہے، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا انی بیوی کو بہن کہ دینا ہے۔اس تعلق میں امام ابن حجر نے ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت سارہ رشتے میں ان کی چچازاد بہن تھیں۔بعض مورخین کی تحقیق میں ان کے اس بچا کا نام ھاران ہے یا ( فتح الباری جزء ۱ صفحه ۴ ۴۷ ) لہذا ان کا مذکورہ قول تو یہ تو کہلا سکتا ہے، جھوٹ نہیں۔بعض علماء نے کہا ہے کہ ان کی بیوی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا صلہ رحمی کا رشتہ نہ بھی ہو تو بھی اس سے اخوت اسلامی کا رشتہ تو موجود ہے۔اس تعلق کی رو سے سارہ ان کی بہن تھیں۔ایک تعلق کے اظہار اور دوسرے تعلق کے اختفاء سے جھوٹ کا الزام عائد نہیں ہوتا۔یہ خلاصہ ہے علماء سلف کے بیانات کا۔لیکن امر واقعہ کے لحاظ سے کسی تاویل کی ضرورت ہی نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام قرآن مجید میں وصف صدیق سے ملقب ہیں جو صفت مبالغہ ہے، یعنی غایت درجہ راست باز۔جو شخص کسی خوف کی وجہ سے اختفاء حق سے کام لیتا ہے وہ صدیق تو در کنار صادق کہلانے کا بھی حق نہیں رکھتا۔آپ صرف صدیق ہی نہیں بلکہ نبی بھی تھے اور نبی بھی وہ جو (كَانَ أُمَّةً) جامع الصفات اور قوموں کے لئے قابل تقلید امام و پیشوا اور ابوالانبیاء ٹھہرائے گئے۔علاوہ ازیں یہ سوال بھی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی ایسا واقعہ پیش آیا بھی تھا یا نہیں جس کا ذکر حدیث نمبر ۳۳۵۸ میں ہے؟ بعض شارحین نے تو روایت کا بیان ہی مخدوش قرار دیا ہے۔کیونکہ اس میں یہ ذکر ہے کہ لَيْسَ عَلَی وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِی وَغَيْرُک یعنی سطح زمین پر میرے اور تیرے سوا اور کوئی مومن نہیں۔بحالیکہ قرآن مجید تاريخ أبي الفداء، ذكر إبراهيم الخليل صلوات الله علیه، جزء اول صفحہ ۹)