صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 18 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 18

صحيح البخاری جلد 4 ۱۸ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ط الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللهُ عَلى كُلّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا (الکھف:۴۶) تو اُن سے حیات الدنیا کی حالت کو مثال سے بیان کر کہ وہ اس پانی کی سی ہے جسے ہم نے بادل سے نازل کیا۔پھر زمین کی روئیدگی اس سے مل جل گئی اور آخر وہ بھوسے کی مانند چورا بن گئی جسے ہوائیں اُڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ ہر بات پر قدرت رکھنے والا ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ بادل و ہوا اور زندگی کے نشو ونما پر تصرف در حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔حضرت ابن عباس کی محولہ تشریح اسماعیل بن ابی زیاد نے اپنی تفسیر میں نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۵۵) لفظ اب سے ان آیات کی طرف اشارہ ہے : فَلْيَنظُرِ الْإِنْسَانُ إِلى طَعَامِةِ o أَنَّا صَبَيْنَا الْمَاءَ صَبًّا هِ ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا ه فَانْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا هِ وَعِنَبا وَقَضْبًاO وَزَيْتُونَا وَنَخْلاهِ وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَيَّان مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلَا نُعَامِكُمْ ) (عبس : ۲۵ تا ۳۳) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان اشیاء خوردنی کو دیکھے کہ ہم نے پانی کا سیلاب بہا دیا اور زمین کو جگہ جگہ پھاڑ کر اس میں بیج اُگائے اور انگور اور سبزیاں، زیتون اور کھجور میں اور گھنے باغات اور میوے اور ہر قسم کا چارہ تمہارے اور تمہارے جانوروں کے لئے کارآمدسامانِ زیست ہے۔لفظ انام سے سورہ رحمن کی یہ آیات مراد ہیں: وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلأَنَامِهِ فِيْهَا فَاكِهَةٌ " وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِه وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ) (الرحمن : ۱۱ تا ۱۳) اور اس نے زمین کو مخلوق کے لئے وضع کیا۔اس میں میوے ہیں اور کھجوریں بھی جو خوشے بردار ہے۔جس کا پھل غلاف میں محفوظ ہے اور وہ دانے جو کھردرے خولوں میں ہیں اور خوشبودار پھول۔لفظ آنام کے معنی ہیں مخلوق جو بسند ابن ابی حاتم حضرت ابن عباس سے مروی ہیں اور شعمی سے اس کے معنی کُل ذِی رُوح مروی ہیں یعنی ہر جاندار۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۵۶) لفظ برزَخٌ کے معنی ہیں پردہ۔یہ تفسیر بھی حضرت ابن عباس ہی کی ہے جو مذکورہ بالا سند سے مروی ہے۔اس سے سورۃ الرحمن کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِينِ O بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِينِ فَبِأَيِّ الَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِينِ ، يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ (الرحمن : ۲۰ تا ۲۳) اس نے دو سمندروں کو اس طرح چلایا کہ وہ آخر کار آپس میں مل جائیں گے۔بحالیکہ ان کے درمیان خشک زمین حائل ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی حدوں سے نہیں بڑھتے۔پس (اے جن وانس!) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔دونوں سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔الْفَافًا کے معنی ہیں آپس میں لیٹے ہوئے۔اس سے سورۃ النبا کی آیت لِتُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَّنَبَانًا ، وَجَنْتِ الفافات (النبا : ۱۶، ۱۷) کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے: تاہم موسلا دھار پانی کے ذریعے دانے اور سبزیاں نکالیں اور گھنے باغ اُگائیں۔غُلُبا کے معنی بھی گھنے کے ہیں۔اس سے سورۃ عبس کی آیت وَحَدَائِقَ غُلُبا (عبس: ۳۱) کی طرف اشارہ ہے۔دونوں آیتوں کے مذکورہ بالا معنی مجاہد کے حوالہ سے نقل کئے گئے ہیں۔نیز غلبا کے معنی ہیں پہاڑی