صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 260 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 260

صحيح البخاری جلد ٦ ۲۶۰ ۶۰- کتاب احاديث الأنبياء ا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جن کذبات کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں سے پہلا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سورج، چاند اور ستاروں کو دیکھ کر هذا ربی کہا۔یہ فقرہ بظا ہر خلاف واقعہ نظر آتا ہے۔لیکن حقیقتنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسلوب بیان از قبیل جبکم و توی ہے اور علم معانی میں یہ طریق گفتگو تعریض کہلاتا ہے۔یعنی کسی امر کو ایسے پیرا یہ میں بیان کرنا جس کا بطلان خود واضح ہو جائے۔ہر زبان میں یہ اسلوب مستعمل ہے اور جھوٹ نہیں کہلاتا۔اسی طرح حضرت ابراہیم کا یہ کہنا کہ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَسْتَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ (الأنبياء: ۶۴) خلاف واقعہ نہیں۔بلکہ اس کے معنی یہ ہیں: کسی کرنے والے نے یہ فعل کیا ہے۔یعنی بتوں کو توڑا ہے۔پھر بڑے بت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ ان کا بڑا (بت) ہے، ان سے پوچھو اگر یہ بولتے ہیں کیا حضرت ابراہیم کا مقصد ان کے اس جواب سے واضح ہے کہ یہ بت کسی بات کا جواب نہیں دیتے نہ بات کو سنتے اور سمجھتے ہیں۔اس لیے ان کو معبود بنا نا غلطی ہے۔آپ کے اس انداز گفتگو سے بتوں کو پوجنے والے سمجھ گئے اور شرمندہ ہو کر وہاں سے چلے گئے۔جیسا کہ اگلی آیت فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ سے ظاہر ہے۔پس وہ اسلوب کلام جس سے سننے والے سمجھ جائیں، اس کو خلاف واقعہ کہنا از حد ظلم ہے۔چنانچہ امام ابن حجر نے یہ بات پورے زور سے لکھی ہے کہ لَمْ يَكُنْ كِذبًا لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ الْمَعَارِيضِ۔پھر لکھا ہے: وَهَذَا قَوْلُ الْأَكْثَرِ أَنَّهُ قَالَ تَوْبِيْخًا لِقَوْمِهِ أَوْ تَهَكُمْا۔یعنی اکثر علاء کا یہی قول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مذکورہ بالا اسلوب بطور تنبیہ و تعریض اختیار کیا ہے۔علامہ قرطبی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس اسلوب بیان کو ایسا استدلال بلیغ قرار دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرکین لاجواب اور شرمندہ ہو گئے۔پس جو لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف اپنی کم فہمی کی وجہ سے کذب منسوب کرتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لَمْ يَكْذِبُ إِبْرَاهِيمُ فرما کر ان سے کذب کا الزام دور فرمایا ہے۔کیونکہ الا فلائی کی جو وضاحت حضرت ابو ہریرہ کی مفصل غیر مرفوع روایت میں مذکور ہے، اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی برکت ہی مقصود ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفہ ۴۷۳) ۲ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف جو خلاف واقعہ کہی گئی تین باتیں منسوب کی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے بحالت صحت انی سقیم کہا جو سورۃ الصافات آیت ۹۰ میں مذکور ہے۔اس آیت سے قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس خطاب کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا اور جو ان الفاظ میں ہے: أَئِفُكًا آلِهَةٌ دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ۔فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ، فَنَظَرَ نَظَرَةً فِى النُّجُومِ o فَقَالَ إِنِّى سَقِيمٌ هِ فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ فَرَاغَ إِلَى آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ، مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ ، فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ O (الصافات: ۸۷ تا ۹۴) یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو، کیا جھوٹ کی ؟ یعنی اللہ کے سوا اور معبودوں کو چاہتے ہو۔لپس بتاؤ تو سہی تمہارا رب العالمین کی نسبت کیا خیال ہے؟ پھر اس نے ستاروں کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔پس وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے اور وہ بھی ان کے معبودوں کی طرف چپکے سے چلا گیا اور انہیں دیکھ کر کہا: کیا تم حضرت ابراہیم کی دلیل یہ ہے کہ بڑا موقعہ کا گواہ صحیح سالم موجود ہے اور جن سے واقعہ ہوا ہے وہ بھی موجود ہیں نہ تمہیں یہ بڑا بتا سکتا ہے اور نہ وہ جن سے یہ ہوا ہے۔تو پھر تم ان کو کیوں اپنا کارساز بناتے ہو۔