صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 259
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۵۹ ☆ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء ایک سو بیس سال عمر بتائی گئی ہے جب انہوں نے ختنہ کیا ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۲۴۶) علماء نے ان دونوں کا اختلاف اس طرح رفع کیا ہے کہ زمانہ پیدائش سے ان کی عمر بوقت ختنہ ایک سو بیس سال اور زمانہ نبوت سے اُسی سال تھی۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۷۲) صحف تو رات میں تاریخوں وغیرہ کا ذکر ایک تخمینہ ہی ہوتا ہے اور ان میں پوری صحت ملحوظ نہیں جیسا کہ عیسائی محققین کو بھی تسلیم ہے۔ لَمْ يَكْذِبُ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثًا: دسویں روایت نمبر ۳۳۵۷) اور گیارھویں روایت ( نمبر ۳۳۵۸) بلحاظ سند معنعن اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں ۔ پہلی میں۔ وہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں ۔ پہلی میں ہے: قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَمْ يَكْذِبُ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثًا - یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین باتوں کے سوا خلاف واقعہ بات نہیں کی۔ ثلاثا کی تمیز مَرَّاتٍ بھی ہو سکتی ہے اور كَذَبَاتٍ بھی ۔ ترجمے میں جھوٹ کے لفظ سے کذب کا صحیح مفہوم ادا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس سے ذہن فوراً دروغ گوئی کی طرف منتقل ہو جاتا۔ منتقل ہو جاتا ہے۔ در حقیقت عربی میں کذب ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے ، جو اپنے معانی میں بہت وسعت رکھتا ہے۔ ایسا امر بھی جو حقیقت میں ہو تو صحیح مگر بظاہر خلاف واقعہ معلوم ہوتا ہو کذب ہی کہلائے گا۔ مغالطہ، اخفاء، کنایہ، خطا، سہو و سہو و نسیان اور فریب نظر بات پر بھی یہ لفظ اطلاق پاتا ہے۔ جھوٹ کذب کا مترادف نہیں۔ اگر کذب کا ترجمہ جھوٹ اختیار کیا جائے تو کذب کا مفہوم جو فقرہ لَمْ يَكْذِبُ إِلَّا ثَلاثًا سے مقصود ہے، ادا نہیں ہوگا اور جو الا کے بعد وضاحت کی گئی ہے اس کے خلاف بھی ہے۔ سے دوسری سند ( روایت نمبر ۳۳۵۸) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا ذکر نہیں بلکہ حضرت ابو ہریرہ ہی کی روایت ہے جس میں تین باتوں سے متعلق تفصیل ہے اور ان کے اس بیان کے مطابق دو کا ذکر قرآن مجید میں ہے اور ایک وہ واقعہ ہے جو بقول را وی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کسی جابر بادشاہ کے ملک میں پیش آیا تھا۔ یہی روایت کتاب البیوع، باب ۱۰۰ روایت نمبر ۲۲۱۷ میں گزر چکی ہے۔ وہاں بھی بسند اعرج حضرت ابو ہریرہ ہی مروی ہے اور اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یعنی یہ روایت مرفوع ہے۔ امام ابن حجر نے جریر بن حازم، نسائی، بزار اور ابن حبان کی روایتوں کا حوالہ دے کر یہ رائے ظاہر کی ہے : الْحَدِيثُ فِي الْأَصْلِ مَرْفُوعٌ کہ یہ حدیث دراصل مرفوع ہے۔ پھر لکھا ہے: لَكِنَّ ابْنَ سِيرِينَ كَانَ لَا يُصَرِّحُ بِرَفْعِ كَثِيرٍ مِنْ حَدِيثِهِ - که ابن سیرین اکثر روایات میں یہ ذکر نہیں کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۷۲) ہو سکتا ہے کہ اس طریق میں وہ احتیاط کا پہلو مد نظر رکھتے ہوں ۔ لیکن اس کے باوجود راویوں کے الفاظ میں فرق ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے صحت اسناد کے اعتبار سے یہ روایت قبول کی ہے اور اپنی صحیحین میں نقل کر کے اس سے مختلف فقہی مسائل کا استنباط کیا ہے۔ مثلاً کتاب البیوع میں کافر سے ہدیہ قبول کرنے کا مسئلہ مستنبط کیا ہے۔ امام ابن حجر وغیرہ علماء نے نفس بیان کی صحت سے متعلق جو جرح کی ہے اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:۔ ابن حبان نے یہی روایت مرفوع بیان کی ہے۔ ( صحیح لابن حبان ، کتاب التاريخ، باب بدء الخلق ، جز ۱۴۶ صفحه ۸۴ )