صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 258 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 258

صحيح البخاری جلد 4 ۲۵۸ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء تیسری و چوتھی روایت نمبر ۳۳۵۲۳۳۵) کے لئے دیکھئے کتاب تفسير القرآن، تفسير سورة المائدة، باب ١٠: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ پانچویں روایت (نمبر ۳۳۵۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب قرآنِ مجید کی آیت إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ اتقسم کے مطابق ہے۔پوری آیت یہ ہے: يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا - إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ) (الحجرات : ۱۴) اے لوگو! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کئی گروہوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔اللہ یقیناً بہت علم رکھنے والا ( اور ) بہت خبر رکھنے والا ہے۔دوسرے جواب کا تعلق عنوان باب سے ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو حسب وعدہ بہت برکت دی گئی اور ان کی نسل سے انبیاء اور عادل بادشاہ پیدا ہوئے۔موعودہ برکت سے متعلق دیکھئے پیدائش باب ۱۳ آیات ۱۵ تا ۱۷، باب ۱۵ آیات ۵ تا ۷، باب ۱۷ آیات ۵ تا ۸، ۱۹ تا ۲۱۔قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَمُعْتَمِر : روایت نمبر ۳۳۵۳ کے آخر میں ابو اسامہ اور معتمر کی سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کا جو حوالہ دیا گیا ہے اس میں استاد کا اختلاف ہے۔ان دونوں نے یحی بن سعید قطان کی طرح عَنْ أَبِيهِ نہیں کہا۔بلکہ ان کی سند میں سعید نے بلا واسطہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے۔ابواسامہ کی سند کے لئے دیکھئے باب ۱۹، روایت نمبر ۳۳۸۳۔اور معتمر کی سند کے لئے دیکھئے باب ۱۴، روایت نمبر ۳۳۷۴۔چھٹی روایت (نمبر ۳۳۵۴) کے لیے دیکھئے کتاب الجنائز باب ۹۳۔نیز دیکھئے کتاب التعبیر روایت نمبر ۷۰۴۷۔ساتویں روایت (نمبر ۳۳۵۵) کے لئے دیکھئے کتاب الحج باب ۳۰۔نیز اس روایت کی تشریح کے لئے دیکھئے کتاب الفتن باب ذكر الدجال۔روایت نمبر ۳۳۵۵ کا تعلق عنوان باب سے صرف اس قدر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تھا۔آٹھویں روایت نمبر ۳۳۵۶) میں اسی سال کی عمر میں ختنہ کئے جانے کا ذکر ہے اور پیدائش میں بوقت ختنہ ان کی عمر نانوے برس مذکور ہے۔( پیدائش باب ۱۷ آیت ۲۴، ۲۵) حضرت ابو ہریرہ عیسائی قبیلہ دوس سے تعلق رکھتے تھے اور اسرائیلی روایات سے واقف۔نویں روایت میں حضرت ابو ہریرہ کی مذکورہ بالا روایت کی صحت سماع سے متعلق ابوالزناد اور عجلان اور ابوسلمہ کی سندوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ : عبدالرحمن کی جس متابعت کا ذکر کیا گیا ہے وہ مسدد کی مسند میں مذکور ہے اور اس میں بجائے اسی برس کے یہ الفاظ ہیں: اخْتَسَنَ إِبْرَاهِيمُ بَعْدَ مَا مَرَّتْ بِهِ ثَمَانُونَ وَاخْتَسَنَ بالْقَدُومِ - یعنی اس سال کے بعد تیشہ سے ختنہ کیا۔یہ ابدی عہد کی علامت قرار دی گئی ہے۔( پیدائش باب ۱۷ آیات ۱۹،۱۴) عبدالرحمن کی محولہ بالا روایت سے ظاہر ہے کہ جن روایتوں میں اسی سال کا ذکر ہے وہ ایک اندازہ ہے جو توریت کے بیان سے زیادہ قریب ہے۔موطا امام مالک میں حضرت ابو ہریرہ ہی کی ایک روایت میں جو موقوف ہے،