صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 257 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 257

البخاری جلد ٦ ۲۵۷ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء تاریخ و تو رات میں حضرت ابراہیم کے باپ کا نام تارح بتایا گیا ہے۔بعض علماء کے نزدیک تارح اسم علم ہے اور آزراسم وصفی۔آزر عبرانی میں عاشق صنم کو کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک آزربت کا نام تھا، تارح جس کا بیجاری اور جس کے مندر کا مہنت تھا۔چنانچہ مجاہد سے مروی ہے کہ آیت وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَا بِيْهِ آذَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً (الأنعام: ۷۵) کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے کہا کہ کیا تو آزر کے بتوں کو معبود سمجھ کر ان کی پوجا کرتا ہے؟ (تاج العروس، باب الراء، آزر یہ اسلوب خطابت بہت ہی حقارت آمیز ہے۔ان کے نزدیک آذر، ابنیه کا بدل نہیں بلکہ جملہ استفہامیہ کا مبتداء ہے اور آزر ان کے باپ کا نام نہیں۔بعض علماء کا خیال ہے کہ ابیہ سے مراد ان کا کچا ہے جو بت خانہ کا مہنت تھا اور اس کا نام آزر تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی بھی یہی رائے تھی ہے اور اب کا اطلاق چا اور دادا وغیرہ پر بھی ہوتا ہے۔حدیث نبوی میں آیا ہے: الْعَمُ صِنو ابيه - چا مثل باپ ہے۔مجاہد کی رائے قرین قیاس ہے۔کیونکہ قدیم مصریوں کے دیوتاؤں میں ایک دیوتا کا نام از دریس ہے جس کے معنی خدائے قومی ومعین کے ہیں یکے مصر کے قدیم باشندے سامی الاصل تھے اور ان کی زبان عربی ہی کی بدلی ہوئی شکل ہے۔لفظ آزَرَ يُوازِرُ مُؤَازَرَةً کے معنی ہیں مدد دینا۔یہ لفظ قرآن مجید کی مذکورہ ذیل آیات میں انہی معنوں میں وارد ہوا ہے۔ا كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْتَهُ فَأَزَرَهُ (الفتح: ۳۰) ایک کھیتی کی طرح ہے جو اپنی کونپل نکالے پھر اُسے مضبوط کرے} (۲) اشْدُدْ بِهِ أَزْرِى (طه: ۳۲) { اس کے ذریعے میری پشت مضبوط کر} کلدانی زبان میں آوار مہنتوں اور پروہتوں کے سردار اعظم کا لقب تھا۔جو بعید نہیں کہ دیوتا کے نام پر ہو اور ارض بابل کلدانیوں ہی کا علاقہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وطن تھا۔کلدانی بھی سامی الاصل ہیں اور ان کی زبان عربی ام الالسنہ ہی کا ایک تبدیل شدہ لہجہ تھا۔قطع نظر اس سے کہ آزر اسم علم ہے یا اسم وصفی اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ تھا یا چچا، آیات کے اصل موضوع میں کوئی فرق نہیں آتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لأوَّاهُ حَلِيمٌ سے متصف بتایا گیا ہے اور ان کا دل جس طرح عامتہ الناس کے لئے دردمند تھا، اسی طرح اپنے باپ یا چا کی ہدایت و نجات کے لئے بھی ان کی روح پر سوز و بے قرار تھی اور یہ سوز و اضطراب ان کی دعا سے ظاہر ہے۔روایت نمبر ۳۱۱۴ میں جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے اور جو قرآنِ مجید میں بایں الفاظ مذکور ہیں۔وَاغْفِرْ لِأبِى إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ۔۔۔(الشعراء: ۸۷-۹۰) اور میرے باپ کو معاف کر دے، وہ بھٹک جانے والوں میں سے تھا اور جس دن لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں، مجھے اس دن رسوا نہ کیجیو۔جس دن کہ نہ مال نفع دے گا نہ بیٹے ( نفع دیں گے ) ہاں (وہی نفع پائے گا ) جو اللہ کے پاس ایک تندرست دل لے کر آئے گا۔لابيه : آب عام ہے۔مراد کوئی بزرگ رشتہ دار۔والد مراد نہیں۔( حقائق الفرقان ، سورۃ الانعام آیت ۷۵ ) (فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل، فضائل أبي الفضل العباس بن عبد المطلب، جزء ۲ صفحہ ۹۳۰) ( قصص القرآن ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، جلد اول صفحہ ۹۶)