صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 256
صحيح البخاری جلد 4 ۲۵۶ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء أَوَّاة کے معنی ہیں بہت نرم دل، غایت درجہ دردمند و خیر خواہ اور پر سوز و گداز۔حلیم کے معنی ہیں عقل مند برد بار۔یہی وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے انبیاء ورسل علیہم السلام غیروں سے ممتاز ہوتے اور بنی نوع کی بھلائی اور ہنمائی کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں۔مذکورہ بالا تینوں آیات کے حوالے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق باب میں برمحل اور امام بخاری کے حسن انتخاب کی داد دیتے ہیں۔قرآن مجید میں تریسٹھ مقام میں ان کا ذکر وارد ہوا ہے۔جن میں سے یہ تین آیتیں جامع البیان ہیں۔ذیل میں اب نمبر وار احادیث کی تشریح بیان کی جاتی ہے۔ط 0 ہے۔باب ۸ کی پہلی روایت (نمبر (۳۳۴۹) سورۃ المائدہ کی تفسیر میں بھی مروی ہے۔(کتاب التفسير سورة المائدة، باب (۱۴) جس میں آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔جہاں تک بنی نوع انسان کی نگ دھڑنگ بعثت اخرویہ اور آیت كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيْدُهُ - وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ) (الأنبياء : ۱۰۵) کی شرح کا تعلق۔اس کے لئے دیکھئے تفسیر سورۃ الانبياء (بَاب كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُه) جہاں یہی روایت مع آیت ایک اور سند سے نقل کی گئی ہے۔وہاں بتایا گیا ہے کہ حیاة الآخرت میں ہماری بعثت کیسی ہوگی۔جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت اخروی اور پہنائے جانے کا ذکر ہے تو اس بارے میں اس قدر یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حشر نشر سے متعلق کشفاً ایک نظارہ دکھایا گیا تھا، جسے آپ نے لوگوں کو مخاطب کر کے مذکورہ بالا الفاظ میں بیان کیا۔اس بیان کا ایک حصہ دنیا کے واقعات سے متعلق ہے۔یعنی آپ کی وفات کے بعد مسلمانوں کا ارتداد۔امت مرحومہ کا مشہور و معروف مرثیہ حالی زبانِ حال ہے اور شاعر مشرق کا یہ خطاب بیان حقیقت وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ باقی حصہ مکاشفہ بھی حقیقت پر مبنی ہے۔اس نوع کے مکاشفات محل جرح و قدح نہیں ہو سکتے ، اس لئے کہ ان کا تعلق مشاہدات روحانیہ سے ہے جن سے ہر کس و ناکس بہرہ ور نہیں۔اس ضمن میں دیکھئے کتاب الایمان تشریح باب ۳۷ روایت نمبر ۵۰، کتاب العلم تشریح باب ۲۲۔باب ۸ کی دوسری روایت (نمبر ۳۳۵۰) کا تعلق بھی مکاشفہ سے ہے۔اس میں آزر جو مشرک اور بت پرستوں کا پر وہت تھا جو کی شکل میں متمثل دکھایا گیا ہے۔جس کی من بھاتی خوراک مردوں کا گوشت ہے۔پروہتوں کی معیشت کا دارو مدار بھی مندروں کی آمد پر ہے۔جو بتوں کے پجاریوں سے حاصل ہوتی ہے اور یہ پجاری سرچشمہ حیات حی و قیوم معبود حقیقی سے منقطع ہو جانے کی وجہ سے روحانی مردے ہیں۔اخروی سلسلۂ مجازات اعمال کے متماثل و مشابہ ہوتا ہے۔اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ بالا صورت میں آزر کا انجام دکھایا گیا جو نہایت بھیانک اور مشرکوں کے لئے عبرتناک ہے۔