صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 255 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 255

صحيح البخارى- جلد 4 ۲۵۵ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء ط ا پہلا حوالہ آیت وَمَنْ أَحْسَنُ دِينَا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ۔۔۔(النساء: ۱۲۶) جس کا ترجمہ یہ ہے: اور اس شخص سے بڑھ کر کس کا دین اچھا ( ہوسکتا) ہے جس نے (خوب) اچھی طرح عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا ہو اور ابراہیم کے دین کی جو سلامت روتھے پیروی (اختیار) کی ہو اور اللہ نے ابراہیم کو (اپنا) خاص دوست بنایا تھا۔آیت کا مفہوم واضح ہے کہ ابراہیمی دین سے عمدہ اور کوئی دین نہیں۔وہ خود خلیل اللہ تھے۔یعنی ان کے ریشہ ریشہ میں اللہ کی محبت سرایت کر چکی تھی اور وہ پوری یکسوئی سے اپنے خالق و معبود کے احکام کے کامل فرمانبردار تھے۔جس کی وجہ سے ملت ابراہیم کا دوسرا نام اسلام ہے۔دوسرا حواله إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتَا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔۔۔۔وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ ) (النحل : ۱۲۱-۱۲۳) کا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے: ابراہیم یقیناً ہر خیر کا جامع ، اللہ کے لئے تذلل اختیار کرنے والا (اور ) ہمیشہ خدا کی کامل فرمانبرداری کرنے والا تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔(وہ) اس کے انعاموں کا شکر گزار تھا۔اس (کے رب) نے اسے برگزیدہ کیا اور ایک سیدھی راہ کی طرف اس کی رہنمائی کی اور ہم نے اسے اس دنیا میں (بھی بڑی کامیابی بخشی اور وہ آخرت میں بھی یقیناً صالح لوگوں میں سے ہوگا۔ان آیات میں ایجابی وسلی یعنی مثبت ومنفی اعتبار سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ممتاز خوبیوں کا بیان ہے۔امۃ کے معنی ہیں جامع صفات حسنہ، جن کی وجہ سے ان کی شخصیت ایک بہت بڑی شخصیت تھی اور لوگوں کی ہدایت کے لئے بطور نمونہ ورہنما کے منتخب کئے گئے۔وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ و یقینا آخرت میں بھی صالحین میں سے ہے۔اس آیت سے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مقام نبوت حاصل ہونے کے بعد بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام صالحین کے درجے میں رہیں گے؟ جبکہ یہ درجہ پہلا مرحلہ ہے اور نبی کا درجہ چار مراحل ارتقاء میں سے اعلیٰ مرحلہ ہے۔(النساء: ۷۰) اس سوال کا جواب یہ ہے کہ چار مراحل (نبوت، صدیقیت ، شہیدیت، صالحیت ) کا تعلق حیات دنیا کے ارتقاء روحانی سے ہے۔حیات اخروی میں جو سلسلہ ارتقاء ہوگا، اس میں بھی اسی نوعیت کے درجات مقدر ہیں۔صالح کے معنی ہیں صلاحیت و اہلیت رکھنے والا۔وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اخروی ترقیات کے لئے بھی صلاحیت رکھنے والوں میں سے ہوں گے۔۳ تیسرا حواله آیت وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لَابِيهِ۔۔۔إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاةٌ حَلِيمٌ ٥ (التوبة: (۱۱۴) کا ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے اور ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لئے صرف اس وجہ سے تھا کہ اس نے اس سے ایک وعدہ کیا تھا۔مگر جب اس پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس وعدہ سے پوری طرح دست بردار ہو گیا۔ابراہیم بہت ہی نرم دل اور عقل مند تھا۔