صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 17 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 17

صحيح البخاری جلد 4 ۱۷ ۵۹ - كتاب بدء الخلق لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاس تاویل کی جس کا اس کو علم نہیں۔اور حضرت ابن عباس نے هَشِيمًا (الكهف : (٤٦) مُتَغَيّرًا۔وَالْأَبُ کہا کہ یہ جو آتا ہے : فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ مَا يَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالْأَنَامُ الْخَلْقُ اس میں لفظ ) هَشِیما کے معنی متغیر ہونے کے ہیں۔یعنی زمین کی روئیدگی آخر متغیر ہو کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے (الأعراف: ٥٩) قَلِيلًا۔بَرْزَخٌ (الرحمن: ۲۱) حَاجِبٌ۔وَقَالَ ہو جاتی ہے جسے ہوائیں اُڑائے پھرتی ہیں۔اور (فرماتا مُجَاهِدٌ الْفَافًا (النبأ: ١٧) مُلْتَفَّةٌ۔ہے: وَفَاكِهَةً وَأَبا یہاں اب کے معنی ہیں وہ چارہ وَالْغُلْبُ الْمُلْتَفَّةُ فِرَاشًا (البقرة: (۲۳) جو مویشی کھاتے ہیں اور ( فرمایا: وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا مِهَادًا كَقَوْلِهِ وَلَكُمْ فِى لِلْأَنَامِ تو انسام کے معنی میں مخلوقات۔(اور فرمایا : الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ (البقرة:۳۷)۔نَكِدًا بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ اس میں ) بَرْزَخٌ کے معنی ہیں پردہ مجاہد نے کہا: ( یہ جو فرمایا: جَنَّتِ أَلْفَافًا تو) الْفَافًا کے معنی ہیں لیٹے ہوئے اور فرمایا: حَدَائِقَ غُلْبًا اس میں ) غُلب کے معنے ہیں لیٹے ہوئے۔(اور فرمایا: وَجَعَلَ الْأَرْضَ فِرَاشًا اس میں ) فِرَاش کے معنی ہیں بچھونا۔جیسے فرمایا: وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ اور تمہارے لیے (اس) زمین میں ایک عرصہ تک قیام اور استفادہ (مقدر) ہے اور ( فرمایا: لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدا تو اس آیت میں) نکڈا کے معنی ہیں تھوڑا۔تشریح: فِي النُّجُوم : خلق کائنات کے تعلق میں عنوان فِي النُّجوم قائم کر کے بعض آیات قرآن مجید کا حوالہ دیا گیا ہے جو حسب ذیل ہیں:۔وَلَقَدْ زَيَّنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ (الملک (۶) اس آیت کا ترجمہ پہلے دیا جا چکا ہے۔قتادہ کے حوالہ سے ستاروں کی پیدائش کی علت غائی میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں: سماء الدنیا کی زنیت ، رحم شیاطین اور بطور نشان جن سے راہنمائی حاصل کی جائے۔قتادہ کے نزدیک ان تین باتوں کے علاوہ جس نے کوئی اور تاویل کی وہ غلطی کرے گا اور ایسی بات کہے گا جس کا اسے علم نہیں۔اس سے ان کا اشارہ جوتشیوں، نجومیوں اور کاہنوں کے خرافات کی طرف ہے جو ستاروں کو نفع و نقصان پر قادر یقین کرتے اور لوگوں کی جہالت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔لفظ هَشِيمًا کے ذکر سے ستارہ پرست اقوام کے عقیدہ کا رڈ مقصود ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَاضْرِبُ لَهُمْ مَثَلَ