صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 249 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 249

صحيح البخاری جلد ؟ ۲۴۹ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء يُصْلِحُ نَبْلًا لَهُ فَقَالَ يَا إِسْمَاعِيْلُ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: جنہیں میں چھوڑ إِنَّ رَبَّكَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِي لَهُ بَيْتًا آیا تھا، انہیں دیکھنے جا رہا ہوں۔چنانچہ وہ آئے۔اتفاق سے حضرت اسماعیل کو زمزم کے ادھر (بیٹھے) قَالَ أَطِعْ رَبَّكَ قَالَ إِنَّهُ أَمَرَنِي پایا۔اپنے تیر درست کر رہے تھے۔انہوں نے کہا: أَنْ تُعِيْنَنِي عَلَيْهِ قَالَ إِذَنْ أَفْعَلَ أَوْ اسماعیل ! تمہارے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں كَمَا قَالَ قَالَ فَقَامَا فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ اس کا ایک گھر بناؤں۔انہوں نے کہا: اپنے رب کا حکم بجالائیں۔حضرت ابراہیم نے کہا: اس نے مجھے یہ يَبْنِي وَإِسْمَاعِيْلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ بھی فرمایا ہے کہ تم اس میں میری مدد کرو۔حضرت وَيَقُوْلَانِ : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنّا اِنَّكَ اسماعیل نے کہا: پھر میں کروں گا۔یا کہا: ایسا ہی ہوگا جیسا اس نے فرمایا ہے۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ) (البقرة : ١٢٨)۔پھر وہ دونوں اُٹھے۔حضرت ابراہیم نے بنانا شروع کیا اور حضرت اسماعیل ان کو پتھر لالا کر دیتے جاتے تھے اور دونوں یہ دعا مانگتے تھے۔اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول فرما۔تو ہی درحقیقت ( دعائیں ) خوب سننے والا، بات کو خوب جاننے والا ہے۔{قَالَ حَتَّى ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ وَضَعُفَ * { حضرت ابن عباس نے کہا: وہ کام کرتے رہے۔الشَّيْخُ عَلَى نَقْلِ الْحِجَارَةِ فَقَامَ عَلَى یہاں تک کہ عمارت اونچی ہوگئی اور حضرت ابراہیم پتھر الْحَجَرِ الْمَقَامِ فَجَعَلَ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ کو اوپر پہنچانے سے رہ گئے۔اس لئے وہ مقامِ ابراہیم وَيَقُوْلَانِ : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ والے پھر پر کھڑے ہوئے اور حضرت اسماعیل ان کو اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقرة: ۱۲۸) } پتھر دیتے جاتے تھے اور دونوں یہ دعا مانگتے تھے:اے ہمارے رب ! ہم سے قبول فرما تو ہی سمیع وعلیم ہے۔} اطرافه ٢٣٦٨، ٣٣٦٢ ٣٣٦٣، ٣٣٦٤۔یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ۴۸۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔