صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 249
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۴۹ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء يُصْلِحُ نَيْلًا لَهُ فَقَالَ يَا إِسْمَاعِيلُ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: جنہیں میں چھوڑ إِنَّ رَبَّكَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا آیا تھا، انہیں دیکھنے جا رہا ہوں۔ چنانچہ وہ آئے۔ کیا تھا، اتفاق سے حضرت اسماعیل کو زمزم کے ادھر (بیٹھے) قَالَ أَطِعْ رَبَّكَ قَالَ إِنَّهُ أَمَرَنِي پایا۔ اپنے تیر درست کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: أَنْ تُعِيْنَنِي عَلَيْهِ قَالَ إِذَنْ أَفْعَلَ أَوْ اسماعیل! تمہارے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کا ایک گھر بناؤں۔ انہوں نے کہا: اپنے رب کا كَمَا قَالَ قَالَ فَقَامَا فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ علم الامين لائیں ۔ حضرت ابراہیم نے کہا: اس نے مجھے یہ - يَيْنِي وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ بھی فرمایا ہے کہ تم اس میں میری مدد کرو۔ حضرت وَيَقُوْلَانِ : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ اسماعیل نے کہا: پھر میں کروں گا۔ یا کہا: ایسا ہی ہوگا أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقرة: ۱۲۸)۔ جیسا اس نے فرمایا ہے۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے : ☆ پھر وہ دونوں اُٹھے۔ حضرت ابراہیم نے بنانا شروع کیا اور حضرت اسماعیل ان کو پتھر لالا کر دیتے جاتے تھے اور دونوں یہ دعا مانگتے تھے۔ اے ہمارے رب ! ہم سے قبول فرما۔ تو ہی درحقیقت ( دعائیں ) خوب سننے والا، بات کو خوب جاننے والا ہے۔ قَالَ حَتَّى ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ وَضَعُفَ * حضرت ابن عباس نے کہا: وہ کام کرتے رہے۔ الشَّيْخُ عَلَى نَقْلِ الْحِجَارَةِ فَقَامَ عَلَی یہاں تک کہ عمارت اونچی ہو گئی اور حضرت ابراہیم پتھر الْحَجَرِ الْمَقَامِ فَجَعَلَ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ کو اوپر پہنچانے سے رہ گئے۔ اس لئے وہ مقام ابراہیم وَيَقُوْلَانِ : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ والے پتھر پر کھڑے ہوئے اور حضرت اسماعیل ان کو أنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقرة : ۱۲۸) } پتھر دیتے جاتے تھے اور دونوں یہ دعا مانگتے تھے: اے ہمارے رب ! ہم سے قبول فرما تو ہی سمیع علیم ہے۔} اطرافه: ٢٣٦٨ ، ٣٣٦٢، 3363، 3364۔ یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ۴۸۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔