صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 247
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۴۷ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا فَذَهَبَتْ کہنے لگیں: جاؤں تو سہی اور دیکھوں شاید کسی کی آہٹ وہ گئیں اور صفا پر چڑھ گیا ا پر چڑھ گئیں اور بار بار نظر فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا حَتَّى أَتَمَّتْ سَبْعًا دوڑائی۔ لیکن کسی کو بھی نہ دیکھا۔ اسی طرح انہوں نے پورے سات چکر لگائے۔ پھر خیال کیا کاش میں جا کر ثُمَّ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ يَا دیکھوں تو سہی اس کا کیا حال ہے؟ اتنے میں اچانک وہ فَإِذَا هِيَ بِصَوْتٍ فَقَالَتْ أَغِتْ إِنْ ایک آواز سنتی ہیں۔ (آواز سن کر ) بولیں: ہماری فریاد كَانَ عِنْدَكَ خَيْرٌ فَإِذَا جِبْرِيلُ قَالَ کو پہنچی، اگر تم بھلائی کر سکتے ہو۔ کیا دیکھتی ہیں کہ جبریل فَقَالَ بِعَقِبِهِ هَكَذَا وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا: انہوں نے اپنی ایڑی سے یوں کیا۔ اور حضرت ابن عباس نے اپنی ایڑی زمین الْأَرْضِ قَالَ فَانْبَثَقَ الْمَاءُ فَدَهَشَتْ پر ماری اور بتایا کہ پانی پھوٹ پڑا۔ اس سے حضرت أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَعَلَتْ تَحْفِزُ قَالَ اسماعیل کی ماں حیران ہوگئیں ہوگئیں اور زمین کھودنے لگیں۔ او صلى الله فَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابن رت ابن عباس کہتے تھے: ابوالقاسم : ابوالقاسم نے فرمایا: وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ كَانَ الْمَاءُ ظَاهِرًا اگر وہ اسی طرح رہنے دیتیں تو پانی سطح زمین پر بہتا قَالَ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الْمَاءِ وَيَدِرُّ رہتا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: غرض وہ پانی پینے لگیں اور ان کا دودھ بچے کے لئے اُتر نا شروع ہوا۔ لَبَنُهَا عَلَى صَبِتِهَا قَالَ فَمَرَّ نَاسٌ حضرت ابن عباس نے کہا: پھر جرہم ( قبیلہ ) کے کچھ مِنْ جُرْهُم بِبَطْنِ الْوَادِي فَإِذَا هُمْ لوگ اس نالے کے نشیب میں گزرے۔ کیا دیکھتے ہیں بِطَيْرِ كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوْا ذَاكَ وَقَالُوا کہ پرندے ہیں۔ یہ گویا انہوں نے نرالی بات دیکھی مَا يَكُوْنُ الطَّيْرُ إِلَّا عَلَى مَاءٍ فَبَعَثُوا اور کہنے لگے: پرندے پانی کے آس پاس ہوتے ہیں۔ رَسُوْلَهُمْ فَنَظَرَ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ انہوں نے اپنا خبر رساں بھیجا۔ اس نے دیکھا بھالا اور دیکھا؟ فَأَتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ فَأَتَوْا إِلَيْهَا فَقَالُوا کیا دکھتا ہے کہ وہ پانی کے قریب ہیں۔ وہ ان کے پاس آیا اور اس نے انہیں بتایا۔ چنانچہ وہ سب ہاجرہ کے يَا أُمَّ إِسْمَاعِيلَ أَتَأْذَنِيْنَ لَنَا أَنْ تَكُوْنَ پاس آئے۔ کہنے لگے: اسماعیل کی ماں! کیا تم ہمیں مَعَكِ أَوْ تَسْكُنَ مَعَكِ فَبَلَغَ ابْنُهَا اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں یا (کہا) ہم فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ تَحْفِرُ ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۲ حاشیہ صفحہ (۴۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔