صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 246
صحيح البخاری جلد 4 ۲۴۶ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء { وَأُمِّ إِسْمَاعِيْلَ} وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيْهَا { اور حضرت اسماعیل کی ماں ہم کو لے کر نکل گئے اور مَاءً فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيْلَ تَشْرَبُ ان کے ساتھ ایک مشکیزہ تھا جس میں پانی تھا۔حضرت اسماعیل کی ماں مشکیزے سے پینے لگیں اور ان کے مِنَ الشَّنَّةِ فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ بچے کے لئے دودھ اُترتا تھا۔جب مکہ میں حضرت ابراہیم پہنچے تو انہوں نے حضرت اسماعیل کی ماں کو ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيْمُ إِلَى أَهْلِهِ فَاتَّبَعَتْهُ ایک بڑے درخت کے نیچے اُتارا۔پھر حضرت ابراہیم أُمُّ إِسْمَاعِيْلَ حَتَّى لَمَّا بَلَغُوْا كَدَاءً اپنے گھر والوں کے پاس لوٹے۔حضرت اسماعیل کی نَادَتْهُ مِنْ وَرَائِهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِلَى مَنْ ماں ان کے پیچھے گئیں۔یہاں تک کہ جب کداء میں وہ پہنچے ، انہوں (یعنی حضرت ہاجرہ) نے ان کو پیچھے سے تَتْرُكُنَا قَالَ إِلَى اللَّهِ قَالَتْ رَضِيْتُ آواز دی: اے ابراہیم ! کس کے حوالے ہمیں چھوڑے بِاللَّهِ قَالَ فَرَجَعَتْ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ جارہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے۔کہنے لگیں: مِنَ الشَّنَّةِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبَيَّهَا اللہ پر میں راضی ہوں۔حضرت ابن عباس نے کہا: وہ حَتَّى لَمَّا فَنِيَ الْمَاءُ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ لوٹ گئیں۔اس مشکیزے سے پیتی رہیں اور ان کے فَنَظَرْتُ لَعَلَّى أُحِسُّ أَحَدًا قَالَ بچے کے لئے ان کا دودھ اتر تا؛ یہاں تک کہ جب پانی بالکل ختم ہو گیا۔دل میں کہنے لگیں: چلوں اور دیکھوں فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ تو سہی، شاید کسی کی آہٹ پاؤں۔حضرت ابن عباس وَنَظَرَتْ هَلْ تُحِسُّ أَحَدًا فَلَمْ تُحِسَّ نےکہا: چنانچہ وہ گئیں اور صفا پر چڑھیں اور نظر دوڑائی أَحَدًا فَلَمَّا بَلَغَتِ الْوَادِيَ سَعَتْ اور غور سے دیکھا، آیا کوئی دکھائی دیتا ہے۔کسی کو بھی نہ وَأَتَتِ الْمَرْوَةَ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ أَشْوَاطًا دیکھا۔جب وہ نالہ میں پہنچیں وہ دوڑنے لگیں اور مروہ ثُمَّ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ پر آگئیں اور اسی طرح کئی بار ادھر ادھر وہ دوڑیں۔پھر خیال کیا: کاش میں جاکر دیکھوں تو سہی اس کا کیا حال تَعْنِي الصَّبِيَّ فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا ہے؟ اس سے مراد ان کی بچے سے تھی۔چنانچہ وہ گئیں هُوَ عَلَى حَالِهِ كَأَنَّهُ يَنْشَعُ لِلْمَوْتِ اور کیا دیکھا کہ وہ اسی حالت میں ہے جیسے کہ جانکنی فَلَمْ تُقِرَّهَا نَفْسُهَا فَقَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ میں سسکیاں لے رہا ہے۔ان کا دل بے قرار ہو گیا۔یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء 4 حاشیہ صفحہ (۴۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔