صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 242
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٠ - کتاب احاديث الأنبياء فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُحِبُّ جب وہاں کئی گھرانے ہو گئے اور وہ لڑکا جوان ہوا اور الْإِنْسَ فَتَزَلُوا وَأَرْسَلُوْا إِلَى أَهْلِيْهِمْ اس نے ان سے عربی سیکھی اور حضرت اسماعیل جب جوان ہوئے تو وہ انہیں بہت پیارے تھے۔ جب وہ فَنَزَلُوْا مَعَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ بِهَا بالغ ہو گئے تو جرہم نے اپنے میں سے ایک عورت کے أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْهُمْ وَشَبَّ الْغُلَامُ وَتَعَلَّمَ ساتھ ان کی شادی کر دی اور حضرت اسماعیل کی ماں الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ وَأَنْفَسَهُمْ وَأَعْجَبَهُمْ فوت ہوگئیں اور حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل کے حِيْنَ شَبَّ فَلَمَّا أَدْرَكَ زَوَّجُوهُ امْرَأَةً شادی کرنے کے بعد آئے۔ جنہیں وہ چھوڑ گئے تھے مِنْهُمْ وَمَاتَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ انہیں دیکھنے کے لیے آئے۔ اور حضرت اسماعیل کو ( گھر میں ) نہ پایا۔ تو انہوں نے ان کی بیوی سے ان إِبْرَاهِيمُ بَعْدَمَا تَزَوَّجَ إِسْمَاعِيلُ کے متعلق دریافت کیا۔ اس نے کہا: باہر گیا ہے، ہمارے يُطَالِعُ تَرِكَتَهُ فَلَمْ يَجِدْ إِسْمَاعِيلَ لئے روزی تلاش کر رہا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم نے فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ فَقَالَتْ خَرَجَ يَبْتَغِي اس سے ان کی گزران اور حالت سے متعلق پوچھا۔ لَنَا ثُمَّ سَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ اس نے کہا: ہم بری حالت میں ہیں تنگی اور تکلیف میں ہیں۔ پس اس نے ان سے شکایت کی۔ حضرت ابراہیم فَقَالَتْ نَحْنُ بِشَرٌ نَحْنُ فِي ضِيقٍ نے کہا: جب تمہارا خاوند آئے، اسے سلام کہیو اور اسے وَشِدَّةٍ فَشَكَتْ إِلَيْهِ قَالَ فَإِذَا جَاءَ کہنا کہ اپنے دروازہ کی دہلیز بدل دے۔ جب حضرت زَوْجُكِ فَاقْرَنِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقُوْلِي اسماعيل آئے تو انہوں نے کہا کہ کیا کوئی تمہارے پاس لَهُ يُغَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ آیا تھا ؟ جیسے انہوں نے کوئی غیر معمولی بات دیکھی ۔ كَأَنَّهُ آنَسَ شَيْئًا فَقَالَ هَلْ جَاءَكُمْ اس نے کہا: ہاں ہمارے پاس ایک بوڑھا آیا تھا، ایسا مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ نَعَمْ جَاءَنَا شَيْخٌ كَذَا ایسا تھا۔ اس نے ہم سے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا۔ میں نے اس کو بتا دیا اور اس نے مجھ سے پوچھا تھا: وَكَذَا فَسَأَلَنَا عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ وَسَأَلَنِي ہمارا گزران کیسا ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ ہم تنگی اور كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا فِي جَهْدٍ تکلیف میں ہیں۔ حضرت اسماعیل نے پوچھا: کیا تمہیں وَشِدَّةٍ قَالَ فَهَلْ أَوْصَاكِ بِشَيْءٍ قَالَتْ کچھ فرمایا تھا؟ اس نے کہاں: ہاں۔ مجھے فرمایا تھا کہ میں