صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 241 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 241

حيح البخاري - جلد 4 ۲۴۱ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ اور ان کو اس فرشتے نے کہا: مت ڈرو کہ تم ضائع ہو جاؤ عَيْنًا مَّعِيْنًا قَالَ فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ گے۔کیونکہ یہاں بیت اللہ ہے۔یہ لڑکا اور اس کا باپ وَلَدَهَا فَقَالَ لَهَا الْمَلَكُ لَا تَخَافُوْا اسے بنائیں گے اور اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرے گا اور اس وقت وہ گھر زمین سے اوپر قدرے الضَّيْعَةَ فَإِنَّ هَا هُنَا بَيْتَ اللَّهِ يَبْنِي اُٹھا ہوا تھا، جیسے شبہ ہوتا ہے۔سیلاب وہاں آتے اور هَذَا الْغُلَامُ وَأَبُوهُ وَإِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ اس کے دائیں اور بائیں جانب سے کچھ نہ کچھ بہا کر أَهْلَهُ وَكَانَ الْبَيْتُ مُرْتَفِعًا مِّنَ الْأَرْضِ لے جاتے تھے۔حضرت ہاجرہ اسی حالت میں تھیں کہ كَالرَّابِيَةِ تَأْتِيْهِ السُّيُولُ فَتَأْخُذُ عَنْ اتنے میں جرہم کا ایک قافلہ یا کہا جرہم کا ایک قبیلہ کداء کے راستے سے آتے ہوئے ان کے پاس سے گزرا اور انہوں نے مکہ کے نشیب میں ڈیرہ لگایا۔انہوں نے يَّمِيْنِهِ وَشِمَالِهِ فَكَانَتْ كَذَلِكَ حَتَّى مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ مِنْ جُرْهُمَ أَوْ أَهْلُ ایک پرندہ گھومتے ہوئے دیکھا۔کنے لگے یہ پرندہ تو بَيْتٍ مِنْ جُرْهُم مُقْبِلِيْنَ مِنْ طَرِيْقِ یقینا پانی پرگھوم رہا ہے۔ہم اس نالے سے خوب واقف كَدَاءٍ فَتَزَلُوْا فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ فَرَأَوْا ہیں۔پانی تو اس میں کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے ایک طَائِرًا عَائِفًا فَقَالُوا إِنَّ هَذَا الطَّائِرَ یا دو خادم بھیجے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں پانی ہے۔وہ لوٹ آئے اور ان کو خبر دی۔اس پر وہ آئے۔حضرت لَيَدُوْرُ عَلَى مَاءٍ لَعَهْدُنَا بِهَذَا الْوَادِي ابن عباس نے کہا اور حضرت اسماعیل کی ماں پانی کے وَمَا فِيهِ مَاءً فَأَرْسَلُوْا جَرِيًّا أَوْ جَرِيَّيْنِ پاس ہی تھیں۔انہوں نے کہا: ہمیں تم اجازت دیتی ہو فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ فَرَجَعُوْا فَأَخْبَرُوْهُمْ کہ تمہارے پاس ڈیرہ لگائیں۔حضرت ہاجرہ نے کہا: بِالْمَاءِ فَأَقْبَلُوْا قَالَ وَأُمُّ إِسْمَاعِيْلَ ہاں اجازت ہے۔مگر پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں عِنْدَ الْمَاءِ فَقَالُوْا أَتَأْذَنِيْنَ لَنَا أَنْ تَنْزِلَ ہوگا۔انہوں نے کہا: اچھا۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اجازت حضرت اسماعیل عِنْدَكِ فَقَالَتْ نَعَمْ وَلَكِنْ لَا حَقَّ لَكُمْ کی ماں سے اتفاق سے ایسے وقت میں مانگی گئی جبکہ وہ فِي الْمَاءِ قَالُوْا نَعَمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ چاہتی تھیں کہ یہاں آدمی آباد ہوں۔وہ اتر پڑے اور قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے بال بچوں کو بلالیا اور وہ بھی ان کے ساتھ ٹھہرے۔