صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 16
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۶ ۵۹ - كتاب بدء الخلق امام احمد بن حنبل اور امام ترندی نے حضرت ابو ہریرہ سے مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سوسال کا فاصلہ ہے۔سمک سے یہی فاصلہ مراد ہے اور باقی آسمانوں میں سے ہر دو آسمانوں کے درمیان مسافت کا یہی حال ہے۔اسی طرح زمینیں بھی ایک دوسری سے اتنی ہی دور ہیں لیے ابو داؤد اور ترندی نے حضرت عباس بن عبد المطلب سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ دو آسمانوں کے درمیان اکہتر بہتر سال کی مسافت ہے کیے امام ابن حجر کے نزدیک اس اختلاف کا سبب رفتار کی کمی بیشی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۵۳) قدیم جغرافیہ دانوں نے کرہ ارض کی تقسیم سات حصوں میں کی ہے۔ہفت اقلیم کا محاورہ اس تشریح کے مطابق زبان زدخلائق ہے۔بعض شارحین نے سات زمینوں سے مراد ہفت اقلیم ہی لئے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۵ اصفحہ ۱۱۲) بعض علماء نے یہ حدیث سات سیاروں پر منطبق کی ہے جو نظام شمسی کا حصہ ہیں۔قرآن مجید نے سات بلندیوں (آسمانوں) کے تعلق میں مِثْلَهُنَّ کہہ کر سات زمینوں کا ذکر بھی فرمایا ہے جو ان کے حسب حال ہیں اور آسمانوں کو زمین کی چھت قرار دیا ہے۔جس پر اس کے قیام و بقاء اور زیست کا دار ومدار ہے۔فرماتا ہے: الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً (البقرة: ۲۳) اپنے اسی رب کی عبادت کرو جس نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا ہے اور آسمان اس کے لئے دار و مدار۔اور آسمان سے پانی اتارا ہے جس کے ذریعے سے تمہارے لئے پھلوں سے رزق مہیا کیا گیا ہے۔بَاب ٣ : فِي النُّجُوْمِ ستاروں کے بارے میں وَقَالَ قَتَادَةُ وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ اور قتادہ (تابعی) نے آیت { اور یقینا ہم نے نزدیک کے الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ (الملك: ٦) خَلَقَ هَذِهِ آسمان کو چراغوں سے زینت بخشی ) کی تفسیر یہ کی ہے کہ ان ستاروں کو اللہ نے تین غرضوں کیلئے پیدا کیا۔آسمان النُّجُوْمَ لِثَلَاثٍ جَعَلَهَا زِيْنَةً لِلسَّمَاءِ کیلئے زینت اور شیطانوں کیلئے رحم اور ایسے نشانات جن وَرُجُوْمًا لِلشَّيَاطِيْنِ وَعَلَامَاتٍ يُهْتَدَى کے ذریعہ صحیح راستہ کا پتہ چلتا ہے۔(قمادہ کے نزدیک ) بِهَا فَمَنْ تَأَوَّلَ فِيْهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ جس نے اس آیت کی اس کے سوا اور تاویل کی اس نے أَخْطَأَ وَأَضَاعَ نَصِيْبَهُ وَتَكَلَّفَ مَا غلطی کی، اس نے اپنا حصہ ضائع کر دیا اور تکلف سے ایسی (سنن الترمذی، کتاب التفسير باب ومن سورة الحديد) (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين، مسند أبي هريرة، جزء ۲ صفحه ۳۷۰) (سنن الترمذی، کتاب التفسير باب ومن سورة الحاقة) (سنن أبي داود، كتاب السنة، باب في الجهمية)