صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 240
صحيح البخاری جلد 4 ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ کنارہ اُٹھایا۔پھر وہ اس طرف دوڑیں جیسے مصیبت زدہ طَرَفَ دِرْعِهَا ثُمَّ سَعَتْ سَعْیَ انسان بھاگتا ہے۔یہاں تک کہ وہ اس نالے کے پار گئیں۔پھر وہ مروہ پہاڑ پر آئیں اور اس پر کھڑی ہوئیں الْإِنْسَانِ الْمَجْهُوْدِ حَتَّى جَاوَزَتِ اور نظر ڈالی کہ آیا کوئی انہیں دکھائی دیتا ہے۔مگر انہوں الْوَادِيَ ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ نے کسی کو بھی نہ دیکھا۔اسی طرح انہوں نے سات بار عَلَيْهَا فَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ کیا۔حضرت ابن عباس کہتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا: أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان دونوں ٹیلوں کے درمیان ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دوڑتے ہیں۔پھر جب وہ مروہ پر چڑھ کر جھانکیں تو انہوں نے کوئی آواز سنی۔کہنے لگیں: چپ۔یہ بات وہ وَسَلَّمَ فَذَلِكَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا اپنے آپ کو ہی کہتی تھیں۔پھر کان لگا کر سننے کی کوشش فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَى الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ کی۔پھر انہوں نے اسی طرح آواز سنی کی ہے تب وہ صَوْتًا فَقَالَتْ صَهِ تُرِيْدُ نَفْسَهَا ثُمَّ بولیں: میں نے تمہاری آواز سن لی ہے۔اگر تم نے کچھ تَسَمَّعَتْ { فَسَمِعَتْ أَيْضًا فَقَالَتْ مدد کرنی ہے تو کرو۔کیا دیکھتی ہیں کہ فرشتہ ہے زمزم کی قَدْ أَسْمَعْتَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ غِوَانٌ جگہ کے قریب۔اس نے اپنی ایڑی سے یا کہا: اپنے بازو سے زمین گرید ڈالی۔یہاں تک کہ پانی نکل آیا۔اس پر فَإِذَا هِيَ بِالْمَلَكِ عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ حضرت ہاجرہ نے وہاں حوض بنانا شروع کر دیا۔اور اپنے فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ أَوْ قَالَ بِجَنَاحِهِ حَتَّى ہاتھ سے اس طرح منڈیر بنایا اور چلو سے پانی لے کر سے ظَهَرَ الْمَاءُ فَجَعَلَتْ تَحُوْضُهُ وَتَقُوْلُ اپنے مشکیزے میں ڈالنے لگیں۔چلو سے پانی لے بِيَدِهَا هَكَذَا وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ چکتیں کہ وہ جوش مارتا اور نکل آتا۔حضرت ابن عباس الْمَاءِ فِي سِقَائِهَا وَهُوَ يَفُوْرُ بَعْدَ مَا کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اسماعیل کی ماں پر رحم کرے۔اگر وہ زمزم کو ( اپنی حالت پر ) چھوڑ تَغْرِفُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ قَالَ النَّبِيُّ یتیں یافرمایا اگر پانی چلو بھربھر کر لیتیں تو زمزم اب صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔حضرت ابن عباس نے کہا: چنانچہ أُمَّ إِسْمَاعِيْلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ حضرت ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بچے کو دودھ پلایا حمد لفظ فَسَمِعَتْ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزء ۶ حاشیہ صفحہ ۴۷۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔