صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 239 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 239

صحيح البخاری جلد 4 ۲۳۹ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيْهِ إِنْسٌ وَّلَا رہے ہو، جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی چیز۔شَيْءٍ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ مِرَارًا وَجَعَلَ حضرت ہاجرہ نے حضرت ابراہیم سے یہ کئی بار کہا اور لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ لَهُ اللَّهُ أَمَرَكَ وہ ان کی طرف مڑ کر دیکھتے بھی نہ تھے۔آخر حضرت ہاجرہ نے ان سے کہا: کیا اللہ نے آپ کو ایسا حکم دیا بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ إِذَنْ لَا يُضَيِّعُنَا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں۔کہنے لگیں: پھر وہ ثُمَّ رَجَعَتْ فَانْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ حَتَّى ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور یہ کہہ کر واپس آئیں۔إِذَا كَانَ عِنْدَ النَّبِيَّةِ حَيْثُ لَا يَرَوْنَهُ حضرت ابراہیم چلے گئے یہاں تک کہ جب وہ اس اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَيْتَ ثُمَّ دَعَا بِهَؤُلَاءِ گھائی کے قریب پہنچے جہاں وہ نہیں دیکھ سکتے تھے، انہوں نے بیت اللہ کی طرف منہ کیا اور ہاتھ اٹھا کر ان الْكَلِمَاتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: رَبَّنَا الفاظ میں دعا کی: اے میرے رب میں نے اپنی اولاد إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ کو ایک ایسے میدان میں ٹھہرایا ہے جہاں کچھ بھی نہیں غَيْرِ ذِي زَرْعٍ حَتَّى بَلَغَ اُگتا۔۔۔تا کہ وہ شکر کریں۔اور حضرت اسماعیل کی ماں يَشْكُرُونَ (إبراهيم: ۳۸) وَجَعَلَتْ أُمُّ حضرت اسماعیل کو دودھ پلانے لگیں اور اس پانی سے إِسْمَاعِيْلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِيْلَ وَتَشْرَبُ خودبھی پیتی رہیں اور حضرت اسماعیل کو بھی پلاتی رہیں) ( یہاں تک کہ مشکیزہ میں جو پانی تھا جب ختم ہو گیا تو وہ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا پیاسی ہوئیں اور ان کے بیٹے کو بھی پیاس لگی اور اس کو السّقَاءِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا دیکھنے لگیں کہ وہ مارے پیاس کے پیچ و تاب کھا رہا ہے، وہ وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتَلَوَّى أَوْ قَالَ یا کہا کہ وہ تڑپ رہا ہے۔وہ گئیں کیونکہ اس کو ایسی يَتَلَبَّطُ فَانْطَلَقَتْ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ حالت میں دیکھنا انہیں گوارا نہ ہوا اور اس علاقہ میں إِلَيْهِ فَوَجَدَتِ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ صفایی نزدیک ترین پہاڑ تھا جو انہوں نے دیکھا کہ ان کے بالکل قریب ہے، اس پر وہ کھڑی ہوئیں اور اس فِي الْأَرْضِ يَلِيْهَا فَقَامَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ وادی کی طرف منہ کر کے دیکھنے لگیں کہ آیا کوئی انہیں اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِيَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَى نظر آتا ہے۔مگر انہوں نے کسی کو نہ دیکھا اور صفا سے أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَهَبَطَتْ مِنَ و هیچ اتر آئیں۔جب نالے میں پہنچیں اپنی قمیص کا