صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 15
صحيح البخاری جلد ۶ ۱۵ ۵۹ - كتاب بدء الخلق اس کے علاوہ ذَاتِ الْحُبُ کے معنی ہیں ذَاتِ البَهَاءِ وَالْجَمَالِ یعنی پُر رونق و جمال۔اسی طرح الْحُبُک کے معنی راستہ کے بھی ہوتے ہیں اور ذَاتِ الحُب کے معنے ہوں گے راستوں والا۔جیسے بنی ہوئی دھاریدار چادر ہو۔( فتح الباری جزء ۱ صفحه ۳۵۳) -4 -۵- پھر إِذَا السَّمَاء انْشَقَّتُ ، وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ۔وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ هِ وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْه (الإنشقاق: ۲ تا ۵) کا ذکر کیا ہے۔یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کی بات پر کان دھرے گا اور یہی اس پر فرض تھا اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے اس کو نکال پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی۔وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَان (الشمس : ۷،۶) کا ذکر کیا ہے۔ان آیات کے یہ معنی ہیں ہم آسمان کو اور اس کے بنائے جانے کو اور زمین کو بھی اور اس کے بچھائے جانے کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔مذکورہ بالا آیات کا حوالہ دے کر زمین و آسمان کی پیدائش سے متعلق ایک مجمل صورت پیش کی گئی ہے اور ان میں وارد الفاظ کے وہ معنی بتائے گئے ہیں جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔أُذِنَتْ کے معنی ہیں اس نے کان دھرا۔یعنی اطاعت اختیار کی، فرمانبردار ہوئی، جو اس سے چاہا گیا تھا اس نے قبول کیا۔یہ تفسیر بھی ابن ابی حاتم نے بسند سعید بن جبیر نقل کی ہے۔حقت اور اس کا یہی فرض تھا کہ آسمان بھی فرمانبرداری کرتا اور زمین بھی۔وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ اس آیت کی تفسیر اَخْرَجَتْ مَا فِيْهَا مِنَ الْمَوْتَى کے الفاظ سے کی گئی ہے۔یعنی زمین میں جو مردے ہیں وہ انہیں باہر پھینک دے گیا۔یہ معنی مجاہد سے مروی ہیں جو ان کا قیاس ہے۔سیاق کلام میں مردے باہر پھینکنے کا ذکر نہیں۔ہر شئے جو زمین میں ہے اس کا نکالا جانا مراد لیا جا سکتا ہے۔یعنی زمین اندرونی خزا نے نکال باہر پھینکے گی اور زمین سے مراد وہ امراء کی جماعت بھی ہوسکتی ہے جو آسمان کی آواز یعنی مامور من اللہ کی دعوت قبول کر کے اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں صرف کر دے گی۔ان آیات کی لطیف تفسیر کے لئے ملاحظہ فرما ئیں تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ۔تفسیر سورة الانشقاق ، جلد ۸ صفحه ۳۳۰، ۳۳۵ طحها كے معنے ہیں دخها، بسطها یعنی زمین کو بچھا دیا۔یہ معنی مجاہد اور حضرت ابن عباس سے مروی ہیں اور السَّاهِرَة کے معنی ہیں سطح زمین اور زمین کو السَّاهِرَة اس لیے کہتے ہیں کہ سَهَر کے معنے ہوتے ہیں وہ رات کو جا گا۔چونکہ زمین پر بسنے والے سب جانداروں کا سونا جاگنا اسی میں ہے، اس لئے اس کا نام السَّاهِرَة بولا جانے لگا۔سَهْرَة کا مفہوم بمعنی جاگنا۔ابن ابی حاتم سے عکرمہ نے نقل کیا ہے۔بعض نے السَّاهِرة سے قیامت والی زمین مراد لی ہے نہ اس دنیا کی زمین۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۵۳) اس باب کے تحت چار روایتیں ہیں۔ان سے ظاہر ہے کہ محولہ بالا آیات جن میں خَلْقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کا ذکر ہے، اس ضمن میں کوئی مرفوع مستند حدیث مروی نہیں۔جو روایات زبان زد ہیں، وہ بلحاظ صحت سند قابل اعتبار نہیں۔پہلی دو روایتوں میں سات زمینوں کے گلے میں ڈالے جانے کا ذکر بطور استعارہ و مجاز ہے اور اس سے جرم کی سنگین نوعیت ذہن نشین کرانا مقصود ہے۔یہ مراد نہیں کہ سات زمینوں کا ہار بنا کر غاصب کی گردن میں لڑکا دیا جائے گا۔