صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 229
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۹ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء ☆ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوْا مُرْتَدِيْنَ عَلَى میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُوْلُ كَمَا كَا: جب سے تم ان سے جدا ہوئے، یہ اپنی ایڑیوں کا سے تم سے قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ کے بل پھرے رہے ہیں۔ تب میں اسی طرح کہوں گا شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۚ إِلَى قَوْلِهِ جس طرح اس نیک بندے (حضرت عیسٰی نے کہا تھا: میں جب تک ان میں رہا، ان کا نگران رہا اور جب تو الْحَكِيمُ (المائدة: ۱۱۸ - ۱۱۹)۔ نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگران تھا۔۔۔۔ یقینا تو کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔ اطرافه: ٣٤٤٧ ٤٦٢٥، ٤٦٢٦، ٤٧٤٠، ٦٥٢٤، ٦٥٢٥، ٦٥٢٦۔ ٣٣٥٠ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۳۳۵۰: اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ قَالَ أَخْبَرَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ عَنِ انہوں نے کہا: میرے بھائی عبدالحمید نے مجھے بتایا۔ ابْنِ أَبِي ذِنْبِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے ، سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو ہریرہ نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت قَالَ يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ کی کہ آپ نے فرمایا: حضرت ابراہیم اپنے باپ آزر الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَہ سے قیامت کے روز ملیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ فَيَقُوْلُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّكَ آزر کے منہ پر سیاہی اور گرد چھائی ہوگی ۔ حضرت ابراہیم ان سے کہیں گے: کیا میں نے آپ سے نہیں لَا تَعْصِنِي فَيَقُوْلُ أَبُوهُ فَالْيَوْمَ کہا تھا، میری نافرمانی نہ کریں؟ ان کا باپ کہے گا: آج لَا أَعْصِيْكَ فَيَقُوْلُ إِبْرَاهِيمُ يَا رَبِّ میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ کہیں گے: اے میرے رب تو نے مجھ سے وعدہ کیا يُبْعَثُوْنَ فَأَيُّ خِزْيِ أَخْزَى مِنْ تھا کہ جس روز وہ اُٹھائے جائیں گے تو مجھے رسوا نہیں أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُوْلُ اللهُ تَعَالَى إِنِّي کرے گا۔ اس سے بڑھ کر ذلیل کرنے والی رسوائی حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِيْنَ ثُمَّ اور کوئی ہوگی کہ میرا باپ رحمت الہی سے دور رہے۔ يُقَالُ يَا إِبْرَاهِيمُ مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ الله تعالیٰ فرمائے گا: میں نے کافروں پر جنت حرام صحیح البخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی میں اس جگہ لفظ فَيَقُولُ ہے ( دیکھئے جزء اول صفحہ ۴۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔