صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 228
صحيح البخاری جلد 4 ۲۲۸ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء بَاب ۸ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَاتَّخَذَ اللَّهُ ابْرُ هِيمَ خَلِيلًا ( حضرت ابراہیم کے بیان میں اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست بنایا تھا (النساء: ١٢٦) وَقَوْلُهُ : اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ أُمَّةً اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ابراہیم یقینا ہر اک خیر کا جامع ، قَانِتَا لِلهِ (النحل: ۱۲۱) وَقَوْلُهُ : اِنَّ اللہ کے لئے تذلل اختیار کرنے والا اور ہمیشہ خدا کی کامل فرمانبرداری کرنے والا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: ابراہیم بہت ہی ابرهِيمَ لَاَوَّاهُ حَلِيمٌ (التوبة: ١١٤) نرم دل اور عقلمند تھا۔وَقَالَ أَبُو مَيْسَرَةَ الرَّحِيْمُ بِلِسَانِ اور ابو میسرہ ( عمرو بن شرحبیل ) نے کہا کہ اواہ کے معنى الرَّحِیم یعنی بہت ہی مہربان۔یہ بشی زبان کا الْحَبَشَةِ۔عن عن لفظ ہے۔٣٣٤٩ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۳۳۴۹ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْمُغِيْرَةُ بْنُ (ثوری نے ہمیں خبر دی۔مغیرہ بن نعمان نے ہم سے النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ بیان کیا۔انہوں نے کہا: سعید بن جبیر نے مجھ سے ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بیان کیا۔انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ قَالَ إِنَّكُمْ مَحْشُورُوْنَ حُفَاةً عُرَاةً آپ نے فرمایا: ننگے پاؤں، ننگے بدن، بن ختنہ تمہیں اُٹھایا جائے گا۔یہ کہہ کر آپ نے یہ آیت پڑھی یعنی غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ جیسے ہم نے پیدائش کو پہلے پہل شروع کیا ویسے ہم خَلْقٍ تُعِيْدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا دوبارہ پیدا کریں گے۔ہمارے ذمہ یہ وعدہ ہے جسے كُنَّا فَعِلِينَ (الأنبياء: ١٠٥) وَأَوَّلُ مَنْ ہم ضرور پورا کریں گے۔آپ نے فرمایا: قیامت کے يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّ روز سب سے پہلے جسے لباس پہنایا جائے گا ، ابراہیم أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ ہوں گے اور میرے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں کو الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي أَصْحَابِي بائیں طرف پکڑ کر لے جائیں گے۔میں کہوں گا: یہ