صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 227
صحيح البخاری جلد ؟ ۲۲۷ ۲۰ - كتاب احاديث الأنبياء غرض قرآنی قصص سے متعلق امام بخاری کا بھی یہی نظریہ ہے برخلاف دیگر ناقلین احادیث کے کہ انہوں نے ذوالقرنین سے متعلق باب میں روایات کا ایک طومار جمع کر دیا ہے جو امام موصوف نے باعتبار صحت سند رڈ کر دی ہیں۔ترتیب ابواب کے تعلق میں یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ اس میں تسلسل زمانی مدنظر ہے۔کیونکہ ایرانی اقوام مید وفارس اور اقوام یا جوج و ماجوج (روس) و یونان سب یافث بن نوح کی نسل سے نسبت رکھتی ہیں۔جن کا دوسرا نام آریہ اقوام ہے۔ایرانی اقوام کی ترقی کا زمانہ ایک ہزار سال قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ذوالقرنین اول ( خورس شاہ مید و فارس ) کا عہد حکومت چھٹی صدی قبل مسیح ہے۔یہ اندازہ بطلیموس کے حساب کی رو سے ہے۔جس کی تصدیق ہیروڈوٹس یونانی مورخ کے بیان اور بابلی دستاویز سے بھی ہوتی ہے۔نبوکد نضر ثانی (بخت نصر) شاہ بابل کا عہد حکومت ساتویں صدی (۶۰۵ تا ۶۶۲ ق - م ) بیان کیا گیا ہے اور یہ وہی آسوری بادشاہ ہے جس نے یہودیوں کی مصریوں کے ساتھ ساز باز اور غداری پر یروشلم کو تاخت و تاراج کیا اور اس کے باشندوں کو تہ تیغ کر کے باقی ماندہ کو مع حز قیل نبی علیہ السلام ارض بابل میں بطور قیدی لے گیا تھا اور پھر دانیال نبی علیہ السلام پر بذریعہ مکاشفہ ظاہر کیا گیا کہ بنو اسرائیل ایک سو سال کے اندر اسیری سے نجات پائیں گے اور بیت المقدس دوبارہ تعمیر ہوگا۔یہ پیشگوئی خورس شاہ مید و فارس کے ہاتھوں سے پوری ہوئی جو بمطابق رویاء دانیال ذوالقرنین کے وصف سے ملقب ہیں (علیہ السلام)۔پس اس لحاظ سے ان کا زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے دوسرے ہزار کا وسط ہے جو تخمینا صحیح ہے اور ان کا زمانہ حضرت نوح، حضرت ہود اور حضرت صالح علیہم السلام کے بعد کا زمانہ ہے۔امام بخاری نے ذوالقرنین علیہ السلام کا ذکر کتاب الانبیاء میں کر کے انہیں زمرہ کا مورین من اللہ میں شمار کیا ہے۔غز را نبی کی کتاب باب میں صاف لکھا ہے کہ خورس شاہ فارس مامور تھا اور اس نے آسمان کے خدا کے حکم سے بیت المقدس کی دوبارہ تعمیر کرائی۔۲۔تواریخ باب ۳۶ آیات ۲۳:۲۲ نیز یرمیاہ باب ۲۵ آیات ۱۱ تا ۱۴ بھی اس تعلق میں دیکھی جائیں۔یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۴۵ آیات ۲ تا ۱ میں خورس شاہ مید و فارس کو خداوند کا ممسوح یعنی مسیح (مبارک) قرار دیا اور بتایا گیا ہے کہ خدا وند نے رہنے ہاتھ سے اس کی مدد کی۔تیسرا امر قابل غور یہ ہے کہ ارشادِ نبوی کے الفاظ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَّدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ اور آپ کے اشارے نوے سے کیا مراد ہے؟ مذکورہ بالا دو روایتیں سند کے اعتبار سے صحیح ہیں۔اس تعلق میں کتاب تفسیر القرآن، سورة الحج نيز كتاب الفتن، باب ۲۸،۴ بھی دیکھئے۔جہاں فتنہ یا جوج ماجوج اور ان روایتوں کا مفصل ذکر ہے۔اس باب کی تیسری روایت میں اقوام یاجوج و ماجوج کی کثرت تعداد کا ذکر ہے۔اپنے موقع پر ان کے بارے میں مفصل بیان کیا جائے گا۔