صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 226 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 226

صحيح البخاری جلد 4 ۲۲۶ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء زلزلۃ الساعۃ کی پیشگوئی مذکور ہے۔وہ ایک ہیبت ناک ہو شر با زلزلہ ہے۔جس کے متعلق فرماتا ہے: يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ، إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكرى وَمَا هُمْ بِسُكرى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ o (الحج: ۳،۲) اے لوگو! تم اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔کیونکہ فیصلہ والا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اس کو دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی عورت جس کو دودھ پلا رہی ہوگی اس کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ بدمستوں کی طرح ہیں۔حالانکہ وہ بدمست نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا۔ان آیات میں موعودہ گھڑی کا زلزلہ ایسا عذاب شدید قرار دیا گیا ہے کہ مارے دہشت کے حاملہ عورتوں کا اسقاط حمل ہو جائے گا اور شدت خوف کی وجہ سے لوگ حواس باختہ ہو جائیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ موعودہ عذاب کی گھڑی اسی دنیا سے تعلق رکھتی ہے جس میں اقوام یا جوج ماجوج کے فتنہ سے زمین پر اس لئے جہنم بھڑ کا یا جائے گا کہ لوگ اپنے خالق کو بُھلا دیں گے۔سورۃ الکہف اور سورۃ الانبیاء میں بھی جہاں یا جوج ماجوج کی شرانگیزی اور بذریعہ ذوالقرنین انسداد فتنہ کا ذکر ہے جہنم بھڑکائے جانے کی واضح پیشگوئی مذکور ہے اور ان آیات میں یہ بشارت بھی ہے کہ اعمال صالحہ بجالانے والے مومن ان کے شر سے بچائے جائیں گے۔باب کی تیسری روایت میں بھی جہنم اور مومنوں کے نجات پانے کا ذکر ہے۔تینوں آیتیں ایک دوسری کی تفسیر ہیں۔مذکورہ آیات کے حوالوں اور ان تینوں روایتوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ امام بخاری نے ذوالقرنین سے متعلق جو باب قائم کیا ہے وہ کسی گذشتہ ذوالقرنین اول کی شخصیت کے تعین کی غرض سے ہرگز نہیں۔بلکہ قرآن مجید میں اس کے ذکر کو آئندہ کی عظیم الشان پیشگوئی پر محمول کیا ہے جس کا تعلق فتنہ یا جوج و ماجوج سے نجات کے ساتھ ہے۔پیشگوئی کی مزید تفصیلات کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر، سورۃ الکہف، آیت ۸۴، جلد چہارم صفحه ۴۹۱ تا ۵۰۱ ذوالقرنین کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اور بعض احادیث میں بھی آچکا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔مگر یاد رہے کہ پہلے معنوں سے انکار نہیں ہے وہ گذشتہ سے متعلق ہیں اور یہ آئندہ کے متعلق۔اور قرآن شریف صرف قصہ گو کی طرح نہیں ہے۔بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے ایک پیشگوئی ہے اور ذوالقرنین کا قصہ مسیح موعود کے زمانہ کے لئے ایک پیشگوئی اپنے اندر رکھتا ہے۔66 ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۸، ۱۱۹)