صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 225 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 225

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۵ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء اس تعلق میں یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ امام بخاری نے زیر باب ایسی روایت وغیرہ کیوں پیش نہیں کی جس سے ذوالقرنین اول کا علم ہو؟ سو اس بارے میں بتایا جا چکا ہے کہ امام موصوف قصص القرآن سے حسب تصریح قرآن مجید آئندہ زمانہ کی پیشگوئیاں یقین کرتے ہیں۔ چنانچہ زیر باب صرف وہی روایتیں بیان کی گئی ہیں جن کا تعلق فتنہ یا جوج و ماجوج کے انسداد سے ہے اور جن سے اسلام کو خطرہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنَ رَّبِّي ۚ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۚ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمُ جَمْعًاه (الكهف : (۱۰۰،۹۹) حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ) (الأنبياء: ۹۷) (اس پر) اس نے کہا (کہ) یہ ( کام محض ) میرے رب کے خاص احسان سے ہوا ہے۔ پھر جب ( عالمگیر عذاب کے متعلق ) میرے رب کا وعدہ ( پورا ہونے پر آئے گا تو وہ (اس ) روک کو ( توڑ کر ) زمین سے پیوست شدہ ایک ٹیلہ بنا دے گا اور میرے رب کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہنے والا ہے اور ( جب اس کے پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ) اس وقت ہم ان کو ایک دوسرے کے خلاف جوش سے حملہ آور ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے اور بگل بجایا جائے گا۔ تب ہم ان سب کو اکٹھا کر دیں گے اور یا جوج و ماجوج کے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ ہر پہاڑی اور ہر سمندر کی لہر پر سے پھلانگتے ہوئے دنیا میں پھیل جائیں گے۔ ذوالقرنین کے تعلق میں سورۃ الکہف کی آیت کا حوالہ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ (الكهف : ۱۰۰) تک دینے کے بعد سورۃ الانبیاء کی آیت حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَاجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبياء: ۹۷) کا حوالہ دے کر دونوں وعدوں کو ایک ہی فتنہ سے متعلق دکھایا ہے۔ امام موصوف کا یہ تصرف ان کے فہم قرآن مجید سے متعلق بہت بڑی شہادت ہے اور اپنے اس دقیق استنباط کو پہلی روایت مندرجہ باب سے مضبوط کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یا جوج و ماجوج کو روکنے والی دیوار میں تھوڑا سا شگاف ہوا۔ اہے۔ ان کے راستے سے رکاوٹ دور ہونے کا آپ کے عہد مبارک میں آغاز ہوا۔ نماز ہوا ہے اور ان کا شرجب ۔ جب طاقت پکڑے گا تو اسلام کے علمبردار عرب ہلاک ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ بُروں کے ساتھ نیک بھی تباہ ہوں گے۔ باب کی دوسری روایت میں بھی فتنہ یا جوج و ماجوج کے آغاز کا ذکر ہے۔ آپ نے انگوٹھے اور ساتھ کی انگلی سے نوے کا ہندسہ بنایا اور بتایا کہ نوے سال سے اقوام یا جوج و ماجوج کی ترقی کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہے کہ ذوالقرنین کی پیشگوئی کا تعلق آپ کے ما بعد زمانہ سے ہے جبکہ اقوام یا جوج و ماجوج کا فتنہ شدت اختیار کرے گا۔ باب کی تیسری روایت بھی اس امر کی مؤید ہے کہ امام بخاری کے نزدیک ذوالقرنین کا جو ذکر سورۃ الکہف میں وارد ہوا ہے، اس سے ذوالقرنین اول ( خورس شاه مید و فارس ) مقصود بالذات نہیں اور وہ یقینی طور پر سمجھتے ہیں کہ اس سے مقصود آئندہ کا مهتم بالشان (واقعه عظیمہ ) ہے۔ اس روایت میں سورۃ الج کی ان آیات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں ایک