صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 221 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 221

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۱ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء عزرا نبی نے بھی شاہ فارس خورس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس شکر گزاری میں کہ زمہ ہوئے بتایا ہے کہ اس شکر گزاری میں کہ زمین کی ساری مملکتیں اسے بخشیں ، اس ۔ ں ، اس نے خداوند کے حکم کے حکم سے یروشلم میں ایک مسکن بنوایا۔ ( عزرا، بابا آیات اتا۳) غرض حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے شاہ خ ، شاہ خورس کو ذوالقرنین اول کے اوصاف کا مصداق ثابت کیا ہے ؟ جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں اور آپ نے تاریخی شواہد بھی دیئے ہیں کہ خورس کی جنگ قبائل یا جوج و ماجوج سے بھی ہوئی۔ جن کا وطن بموجب کتاب حز قیل ( باب ۳۸ آیت (۲) روس ، ماسکو اور ٹو بالسک تھا جو شمالی علاقہ ہے اور اس نے اپنے ملک ایران وغیرہ کو ان کی یلغار سے بچایا۔ یہ سب تو سے بچایا۔ یہ سب قبائل یافث بن نوح کی نسل سے۔ سے تھے۔ جن کے شجرہ نسہ کے شجرہ نسب میں جمر، ماجوج ، ماوی، یاوان ، تو بل ، مسک اور تیر اس نام وارد ہوئے ہیں۔ ( پیدائش، باب ۱۰، آیات ۲ تا ۵ ) اور ان کی روک تھام کے لئے جو دیوار بنائی گئی وہ دربند کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا نام سید سکندری اسی قسم کا غلط انتساب ہے جس طرح غلطی سے یا مجازاً سکندر اعظم وغیرہ نامور بادشاہ اور سردارانِ قبائل ذوالقرنین کے لقب سے ملقب کئے گئے ہیں۔ خورس شاہ ایران اپنی وسیع فتوحات اور عدل و انصاف اور رحم دلانہ سلوک و رعایا پروری کی وجہ سے ہر دور و نزدیک مقبوضہ و غیر مقبوضہ ملک میں محبوب اور عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور عہد قدیم کے صحیفوں میں اس کا جو ذکر وارد ہوا ہے، اس سے ظاہر ہے کہ وہ مامور من اللہ تھا۔ وہ آیات جن کا حوالہ بابے کے عنوان میں دیا گیا ہے، ان میں ذوالقرنین سے متعلق مندرجہ ذیل باتیں بتائی گئی ہیں: ا إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا (الكهف : (۸۵) اسے زمین میں بہت بڑی طاقت دی گئی اور وسائل مہیا کئے گئے جن سے اس نے فائدہ اُٹھایا۔ ٢- فَأَتْبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ ۔۔۔ (الكهف : ۸۷،۸۶) وہ اپنے علاقہ سے ملک فتح کرتے ہوئے مغرب کی طرف چلا گیا ۔ جہاں سورج ایک سیاہ چشمہ میں غروب ہو رہا تھا ۔ ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا ) حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ ۔۔۔ (الكهف : (۹۱۷۹۰) اس کے بعد وہ مشرق کی طرف متوجہ ہوا اور مشرقی ممالک کو فتح کیا۔ ثُمَّ اتَّبَعَ سَبَبًا ) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ ۔۔۔ (الكهف : (۹۳ تا ۹۸) پھر وہ ایک درمیانی علاقہ کی طرف متوجہ ہوا۔ جہاں سے یا جوج ماجوج حملہ کر رہے تھے اور اس نے وہاں ان کی یلغار سے بچنے کے لئے ایک دیوار بنائی۔ آیات کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ وہ صاحب وحی اور مامور تھا اور لوگوں نے اپنی مدد کے لئے اس سے فریاد کی اور خوشی سے اس کے ساتھ تعاون کیا۔ مذکورہ بالا اوصاف بیان کرنے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یسعیاہ باب ۴۵ آیات اتام کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ خورس نامی مید اور فارس کا بادشاہ خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت دیا گیا تھا اور اسے مسیح