صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 222
صحيح البخاری جلد 4 ۲۲۲ ۶۰ - كتاب احاديث الأنبياء کہا گیا ہے اور وہ چونکہ اسرائیلی مذہب کا پیرو نہ تھا اور خدا تعالیٰ کی پرستش توریت کے طریق پر نہیں کرتا تھا، اس لئے کہا: ” میں خداوند اسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لے کے بلایا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ہے: قُلْنَا يَا ذا الْقَرْنَيْنِ۔۔۔(الكهف : ۸۷) اور اسی باب میں ہے : ”میں نے تجھے مہربانی سے پکارا ہے گو کہ تو مجھے نہیں جانتا۔“ (یسعیاہ باب ۴۵ آیت (۴) یعنی بنی اسرائیل میں سے نہیں ہے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ زردشت نبی کے پیرو تھے اور انہی کے اصل طریقہ پر عبادت کرنے والے اور موحد تھے۔عہد نامہ قدیم کے حوالے دینے کے بعد آپ نے تاریخی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ وہ نیک سیرت اور ہر دلعزیز بادشاہ تھے۔ان کے دشمن بھی ان سے محبت کرتے تھے اور جب وہ کسی حکومت پر حملہ کرتے تو ان کی نیکی و انصاف کی وجہ سے شہر والے ان کے لئے دروازے کھول دیتے۔اس تعلق میں آپ نے مشہور تاریخ The Historians' History of the World ( مؤرخین کی تواریخ عالم ) کے الفاظ کا ترجمہ نقل کر کے بتایا ہے کہ وہ دور و نزدیک کے ممالک میں محبوب تھے اور محض اپنی ذات کے لئے کچھ نہ کرتے تھے اور وہ ایسے تھے کہ جب حکومت ہائے مید و بابل و مصر نے متحد ہو کر ان پر حملہ کیا تو انہوں نے محض دفاع کی خاطر تلوار اُٹھائی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ رحم مجسم تھے۔ان کی ڈھال پر ناجائز خون کا قطرہ نہیں گرا اور نہ بھیانک انتقام یا ظلم سے انہوں نے اپنے ہاتھ رنگے۔۔۔وہ نرم دل تھے۔۔۔اور مفتوحوں کو مساوی حقوق دیتے۔اس کے بعد آپ نے تاریخ و بائیل سے ثابت کیا ہے کہ یاجوج و ماجوج ان قبائل کا نام ہے جو عربی میں سیدین اور انگریزی میں Scythians کہلاتے ہیں۔(ان کے حملوں میں انہیں یونانیوں اور آسوریوں یعنی بابلیوں کی طرف سے بھی شہ ملتی تھی۔) اور اس تعلق میں انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا (برطانوی دائرۃ المعارف) کا حوالہ دیا ہے کہ جہاں اب در بند ہے۔وہاں ایک دیوار تھی جو بوقت تعمیر ۲۹ فٹ بلند اور افٹ چوڑی تھی۔اس میں لوہے کے دروازے تھے اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر نگرانوں کے لئے مینار بنے ہوئے تھے اور پچاس میل لمبی اور بحیرہ اخضر سے کوہ قاف تک ممتد تھی اور سکندر کی دیوار کے نام سے مشہور تھی اور دوبارہ اس کی مرمت ہوئی۔آپ نے قرائن سے ثابت کیا ہے کہ اس کے نام سے اس دیوار کی نسبت بالکل غلط ہے۔کیونکہ سکندراعظم بہت بعد کے زمانہ میں پیدا ہوا اور اس سے پہلے سینکڑوں سال اس دیوار کا وجود پایا جاتا تھا۔دیکھئے تفسیر کبیر، سورۃ الکہف، آیت ۸۴، جلد چهارم صفحه ۴۹۶ تا ۵۰۱ - یہ تاریخی شواہد و قرائن دینے کے بعد آپ نے یونانی مورخین کے حوالہ سے بتایا ہے شاہ خورس کی فتوحات مشرق میں افغانستان کے نواح تک ممتد تھیں۔(جن میں بلوچستان، سیستان، ہرات، دُزداب اور مشہد بھی شامل ہیں۔) مفتوحہ علاقہ جات میں بلوچستان کا چٹیل علاقہ بھی ہے جو تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلُ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا ما مصداق ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے ذوالقرنین علیہ السلام کے تین اطراف میں غلبے کا ذکر کیا ہے مذکورہ بالا شاہ خورس ہی اس لقب کے مصداق ہیں۔شرح بخاری کے قارئین کی سہولت و اطمینان کے لئے صرف تین حوالے جن کا مفہوم اردو