صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 220
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۲۰ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء نسبت محققانہ اور مفصل بحث کی ہے اور اپنی تحقیق کی بنیاد حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی رائے پر رکھی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ دانیال نبی علیہ السلام کی ایک رویا ان کی کتاب کے باب ۸ میں مذکور ہے جس میں انہوں نے ایک مینڈھا دیکھا۔ جس کے دو اونچے سینگ ہیں اور وہ مغرب و شمال و جنوب کی طرف سینگ مارتا ہے اور کوئی جانور اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا اور وہ بڑا ہو گیا۔ بیلشفر شاہ بابل کو جس کے مؤید حضرت دانیال علیہ السلام تھے، اس خواب سے مطلع کرتے ہیں اور اس کی تعبیر بھی بتائی ہے کہ اس مینڈھے سے مراد مید و فارس کا بادشاہ ہے جو طاقت ور ہوگا اور مغرب و شمال و جنوب کی سلطنتوں پر غالب آئے گا ۔ حضرت دانیال علیہ السلام نے اسی خواب میں مغرب سے ایک بکرا آ۔ را آتے دیکھا کہ تمام روئے زمین پر غالب آگیا اور اس نے دو سینگ والے مینڈھے کو بھی مارا اور اس کے دونوں سینگ توڑ ڈالے۔ اس کی تعبیر یونان کا بادشاہ تھا اور اسی رویا میں انہوں نے ایک چھوٹا سا سینگ بھی نکلتے دیکھا جو بڑھتے بڑھتے اجرام فلکی اور ستاروں تک پہنچا اور اس نے انہیں زمین پر گرا دیا اور پھر وہ اجرام فلک کے فرمانروا تک بلند ہوا اور اس نے دائمی قربانی چھین لی اور حضرت دانیال علیہ السلام کو اس عجیب و غریب رویا میں آخری ایام سے متعلق بھی ایک نظارہ دکھایا گیا ہے اور رومانی سلطنت کی ایک شاخ سے تعلق رکھنے والے حاکم کے برپا ہونے اور بڑی طاقت پکڑنے کا ذکر کیا ہے جس کی فطرت کے منصوبے اس کے ہاتھ میں خوب انجام پائیں گے اور جو بڑا گھمنڈ کرے گا۔ وہ بادشاہوں کے بادشاہ سے بھی مقابلہ کرے گا۔ لیکن بے ہاتھ ہلائے ہی شکست کھائے گا۔ اور انہیں بتایا گیا ہے یہ صبح و شام کی رؤیا یقینی ہے۔ لیکن تو اس رویا کو بند کر کے رکھ کیونکہ لہ اس کا علاقہ بہت دور کے ایام سے ہے۔ ( دانی ایل باب ۸) بہت اس رویا سے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ سمجھتے تھے کہ ذوالقرنین اول مید و فارس کے شاہان میں سے کوئی بادشاہ ہے اور انہوں نے کیقباد کو اس لقب عظیم کا مصداق سمجھا تھا۔ لیکن حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحقیق کی رو سے وہ کیقباد نہیں بلکہ خورس شاہ فارس ہے جس کا ذکر خود دانیال باب ۶ آیت ۲۸ اور بابا کے شروع میں ہے۔ اس نام کا انگریزی تلفظ Cyrus ہے۔ یسعیاہ نبی علیہ السلام نے بھی اس کا ذکر تعریف سے کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا چرواہا ہے اور وہ اس کی مرضی کو تمام و کمال پورا کرنے والا ہے۔ اس کے ہاتھ سے یروشلم دوبارہ تعمیر کیا جائے گا ا جائے گا۔ (یسعیاہ باب ، آیت ۲۸) آپ نے بدلائل ثابت کیا ہے کہ یہ شاہ فارس موحد اور صاحب وحی و کشف تھا اور حسب پیشگوئی اُمتیں اور بادشاہ اس کے قبضے میں دیئے گئے اور اس نے بہت برکت پائی۔ (یسعیاہ باب ۴۵، آیات ۱ تا ۴) قرآن مجید بھی ذوالقرنین اول کے حق میں فرماتا ہے : إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا (الكهف: ۸۵) ہم نے اسے زمین میں قوت و طاقت دے کر مضبوط کیا اور اس کے لئے ہر ضروری امر کے وسائل مہیا کئے۔ اور اسی شاہ خورس کی مدد سے بیت المقدس کی ہیکل دوبارہ تعمیر ہوئی اور اسیران بابل غلامی کی لعنت سے چھٹکارا پا کر اپنے وطن مقدس میں دوبارہ آباد ہوئے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر، سورۃ الکہف، آیت ۸۴، جلد چہارم صفحه ۴۹۱ تا ۵۰۱۔